| 92605 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
مفتی صاحب! مسئلہ یہ ہے کہ چند مہینے پہلے میں نے ایک شخص سے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے قرض لیا تھا۔ اب وہ قرض کی واپسی کے لیے بار بار تنگ کر رہے ہیں، اور میرے پاس قرض واپس کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ میں مجبور ہو گیا ہوں اور مجھے بینک سے سود پر قرض لینا پڑ رہا ہے۔ آپ سے التجا ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں۔ میرے پاس قرض واپس کرنے کا کوئی اور چارہ نہیں، کیا میں مجبوری میں بینک سے سودی قرض لے سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے پاس ادائیگی کی استطاعت نہیں ہے تو مزید قرض لے کر خود کو مزید مالی مشکلات میں الجھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ خصوصاً پرانا قرض اتارنے کے لیے بینک سے سودی قرض لینا شرعاً قطعی حرام اور ناجائز ہے۔
قرآن و حدیث میں سود کے لین دین کی سخت ممانعت آئی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، دینے والے، اس کا معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ لہٰذا قرض خواہ کے بار بار تقاضوں اور مالی تنگی کے باوجود بینک سے سودی قرض لینے کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں۔ اس سے مکمل طور پر اجتناب لازم ہے۔
ایسی مجبوری اور پریشانی کے حالات میں ناجائز ذرائع اختیار کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ قرض کی ادائیگی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو سکھلائی ہوئی درج ذیل دعا چلتے پھرتے خصوصاً ہر فرض نماز کے بعد پڑھتے رہیں۔’’اَللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَنْ مَّنْ سِوَاكَ‘‘.
اگر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان شاء اللہ اس کی ادائیگی کا غیب سے انتظام فرمادیں گے۔
حوالہ جات
(البقرة: 275)
الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بأنهم قالوا إنما البيع مثل الربا وأحل الله البيع وحرم الربا...
(آل عمران: 130-131)
ياأيها الذين آمنوا لا تأكلوا الربا أضعافا مضاعفة واتقوا الله لعلكم تفلحون.واتقوا النار التي أعدت للكافرين.
صحيح مسلم - 1598
حدثنا محمد بن الصباح ، وزهير بن حرب ، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا : حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير ، عن جابر ، قال : " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله وكاتبه وشاهديه وقال : هم سواء " .
جامع الترمذي - 3563
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن ، أخبرنا يحيى بن حسان ، حدثنا أبو معاوية ، عن عبد الرحمن بن إسحاق ، عن سيار ، عن أبي وائل ، عن علي رضي الله عنه ، أن مكاتبا جاءه , فقال : إني قد عجزت عن كتابتي فأعني ، قال : ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم لو كان عليك مثل جبل صير دينا أداه الله عنك ؟ قال : " قل : اللهم اكفني بحلالك عن حرامك ، وأغنني بفضلك عمن سواك " . قال أبو عيسى : هذا حسن غريب .
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/جمادی الاولی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


