03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھتیجیوں، بھانجوں اور بھانجی کے درمیان وراثت کی تقسیم
92373میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک عورت کا انتقال ہو گیا۔ اس کے والدین، بھائی اور بہنیں اس کی زندگی میں ہی فوت ہو چکے تھے۔ اب اس کے رشتہ داروں میں صرف دو بھتیجیاں، دو بھانجے اور ایک بھانجی یعنی کل پانچ افراد زندہ ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحومہ کا ترکہ کس کو ملے گا؟ کیا صرف بھتیجیوں کو ملے گا یا بھانجوں اور بھانجی کو بھی ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال، جائیداد، سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑاہے، وہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔پھر ان کے ذمے موجود قرض ادا کرنے اور ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو باقی ترکہ بچ جائے، اس کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل ترکے کے 35 برابر حصے کیے جائیں گے۔ جن میں سے مرحومہ کے فوت شدہ بھائی کا حصہ 20 حصے بنتا ہے، لہٰذا دونوں بھتیجیوں میں سے ہر ایک کو 10، 10 حصے ملیں گے، جبکہ مرحومہ کی فوت شدہ بہن کا حصہ 15 حصے بنتا ہے، جو ان کی اولاد میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ دونوں بھانجوں میں سے ہر ایک کو 6، 6حصے اور بھانجی کو 3 حصہ ملے گا۔

بھتیجی2

بھتیجی 1

بھانجا 2

بھانجا 1

بھانجی

ورثہ

10

10

6

6

3

عددی حصہ

28.571

28.571

17.142

17.142

8.571

فیصدی حصہ

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي /30 13:

قال العلامةالسرخسي رحمه الله تعالى :فإن انفردوا فكانوا لأب وأم أو لأب فعلى قول أبي يوسف الآخر القسمة بينهم على الأبدان ،وعلى قوله الأول وهو قول محمد على الآباء حتى إذا ترك ابن أخت وابنة أخ وهما لأب وأم أو لأب فعند أبي يوسف: الثلثان لابن الأخت والثلث لابنة الأخ، وعند محمد: على عكس هذا الثلثان لابنة الأخ ،والثلث لابن الأخت بمنزلة الأخ والأخت، ثم ينتقل ميراث كل واحد منهما إلى ولده.

 السراجی:136

قال العلامة  سراج الدين محمد السجاوندي رحمه الله:و محمد  يقسم المال على الإخوة والأخوات  مع اعتبار عدد الفروع والجهات في الأصول، فما أصاب كل فريق يقسم بين فروعهم كما في الصنف الأول  ، أي یقسم المال علی أعلی الخلاف باعتبار عددالفروع فی الأصول.

تبيين الحقائق 7/ 496:

قال العلامةعثمان بن علي الزيلعي رحمه الله تعالى: وقول محمد رحمه الله :أصح في ذوي الأرحام جميعا، وهو أشهر الروايتين عن أبي حنيفة رحمه الله.

ظہوراحمدبن خیردادخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 07 /ربیع الآخر/1448ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب