03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاسمیٹک لِمب لینتھنگ سرجری (Cosmetic Limb-Lengthening Surgery) کا شرعی حکم
92224جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

میں ایک بیوہ عورت ہوں اور حال ہی میں اپنے شوہر اور والدہ کی وفات کے شدید صدمے سے گزر رہی ہوں۔ میرا21 سالہ بیٹا، جو کہ صوم و صلاۃ کا پابند ہے، اس وقت ایک شدید مسئلے میں مبتلا ہے اور درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی و فتویٰ درکار ہے:

:1میرے بیٹے کا قد اوسط درجے (تقریباً 5.4 یا 5.5 فٹ) کا ہے اور اسے کوئی جسمانی بیماری یا عیب نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ قد بڑھانے کے جنون میں مبتلا ہے اور کاسمیٹک لمب لینتھنگ سرجری (Limb-Lengthening Surgery) کروانا چاہتا ہے، جس میں صحت مند ہڈیوں کو جراحی سے کاٹنا، اندرونی یا بیرونی فریمز کا استعمال اور مہینوں کی تکلیف دہ فزیکل تھراپی جیسے سخت مرحلے شامل ہیں۔ کیا محض ظاہری قد بڑھانے کے لیے ایسی خطرناک سرجری کروانا شرعاً جائز ہے؟

:2بچپن میں رہائشی اپارٹمنٹ کے بلڈر اور حالات کی وجہ سے اسے کھیلنے کی مناسب جگہ نہ مل سکی، جس پر اس وقت میں نے اسے تسلی کے طور پر قد اچھا ہونے کا وعدہ کیا تھا۔ اب وہ اپنے قد کے نارمل ہونے کا تمام تر الزام مجھ پر اور اس پرانے وعدے پر لگاتا ہے۔ کیا ایک ماں ہونے کے ناطے، جس نے اپنی استطاعت کے مطابق بہترین پرورش کی ہو، اس مجبوری پر شرعاً مجھ پر کوئی گناہ یا مؤاخذہ ہوتا ہے؟بیٹا دیگر امور میں دین دار ہونے کے باوجود اس معاملے میں شدید ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، مجھے مسلسل زبانی و جذباتی اذیت (Mental Torture) دیتا ہے، گالی دیتا ہے اور پرانے پڑوسیوں و بلڈر سے بدلے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ نیز وہ صاف کہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ ماں یا کسی عالم کی بات نہیں سنے گا۔ ایسی حالت میں ماں کو اذیت دینے اور نافرمانی کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

برائے مہربانی ان سوالات کے شرعی احکام بیان فرما کر ایک بیوہ اور غمزدہ ماں کی دینی و روحانی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1:شریعت میں طبی جراحی (Surgery) کی اجازت صرف شدید بیماری، عیب کو دور کرنے یا جان و عضو کو تلفی سے بچانے کے لیے دی گئی ہے۔ محض غیر ضروری طور پر قد بڑھانے کے لیے لِمب لینتھنگ (Limb-Lengthening) جیسی سرجری کروانا،جس میں صحت مند اعضا اور ہڈیوں کو کاٹ کر جسم کو شدید مشقت و تکلیف میں ڈالا جاتا ہے،شرعاً جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اس عمل سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔

بیٹے کی اس غیر منطقی  (Illogical)ضد کو ختم کرنے کے لیے کسی ماہرِ نفسیات یا کونسلر سے ان کی ذہنی رہنمائی (Counseling) کروائی جائے۔ مزید یہ کہ بیٹے کو علماءِ کرام کی صحبت اختیار کرنے، تبلیغی جماعت میں کچھ وقت لگانے، یا کسی معتبر دارالافتاء سے شرعی و اخلاقی رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے۔اگر وہ فی الفور نہیں مان رہا تو ان پر سختی نہ کی جائے، بلکہ مناسب وقت کا انتظار کیا جائے اوروالدہ کو اللہ کےحضور دعاؤوں کا اہتمام جاری رکھنا چاہیے۔

2:اس کے علاوہ جب والدین اپنی استطاعت کے مطابق اولاد کی جسمانی و روحانی تربیت کی کوشش کر چکے ہوں تو بچپن کی کسی بات یا محض تسلی دینے کے لیے کہے گئے جملوں پر والدہ پر شرعاً کوئی گناہ یا پکڑ نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

( الفتاوى الهندية /5360 ):

إذا ارادالرجل أن یقطع إصبعازائدا،أوشیاآخر،قال نصیررحمہ اللہ:إن کان الغالب علی من قطع مثل ذلک الھلاک فإنہ لایفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك .

المجموع شرح المهذب (42/9)

وإن اضطر ولم يجد شيئا فهل يجوز له أن يقطع شيئا من بدنه ويأكله ؟ فيه وجهان. قال أبو إسحاق: يجوز لأنه إحياء نفس بعضو فجاز، كما يجوز أن يقطع عضوا إذا وقعت فيه الآكلة لإحياء نفسه، ومن أصحابنا من قال : لا يجوز لأنه إذا قطع عضوا منه كان المخافة عليه أكثر.

(تكملة فتح الملهم/4 195):

والحاصل أن كل ما یفعل من جسم من الزیادة أونقص من أجل الزینة بما یجعل الزیادة أو النقصان مستمرا مع الجسم وبما یبدو منه أنه كان فی أصل الخلقةهكذا فانه تلبیس وتغییر منهي عنه ـ وأما ما تزینت به المرأةمن تحمیر الأیدی أو الشفاه أو العارضیین بما لا یلتبس بأصل الخلقة فإنه لیس داخلا فی النهي عند جمهور العلماء ـ وأما قطع الإصبع الزائدة ونحوها لیس تغییرا لخق الله وإنه من قبیل إزالة العیب أو مرض، فأجازه أكثر العلماء خلافا لبعضهم.

ظہوراحمدبن خیردادخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 16/ربیع الآخر/1448ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب