| 90667 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام شیخ رئیس امور ہے۔ میری عمر 67 سال ہے اور میری بیوی کی عمر 65 سال ہے۔ اب مسئلہ یہ عرض ہے کہ میری بیوی نے ناراض ہو کر مجھے کتا کہا تو میں نے اس کو کچھ نہیں کہا، پھر کسی ناراضگی پر سب گھر والوں کے سامنے کتا کہا تو میں نے اس کو ایک وقت میں یہ کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔
ایک دیوبندی مفتی صاحب جو کہ کریلا اسٹاپ پر بڑی مسجد میں ہیں، ان کو میں نے مسئلہ لکھ کر دیا۔ انہوں نے لکھ کر اور مہر لگا کر جواب دیا کہ طلاق واقع ہو گئی ہے۔ میرے سسرال والوں نے کہا کہ اہل حدیث سے لکھواؤ، انہوں نے 50/- روپے لے کر مہر لگا کر بتایا کہ ایک مجلس میں 3 طلاقیں نہیں ہوتیں۔ 2 سال پہلے کی بات ہے، فتوے کی روشنی میں، میں نے بیوی سے اسی سال رجوع کر لیا۔ مگر میرا ذہن مطمئن نہ تھا۔
لہٰذاایک سال سے ہمارے بستر علیحدہ اور کمرے علیحدہ ہیں۔ میں نے صرف بچوں کی خاطر، ان کے کھانے پینے اور گھر کے کام کاج کے لیے اسے رکھ لیا ہے۔ میں صرف گھر کا خرچہ اس کو بچوں کے لیے دیتا ہوں۔ وہ میرا کھانا اور چائے پکا کر دیتی ہے، کپڑے دھوتی ہے، جیسے گھر میں ماسی / نوکرانی کو کام کاج کے لیے رکھا جاتا ہے۔ بچے جوان ہیں مگر اپنا کوئی کام خود نہیں کر سکتے، ماں ہی سارا کام کرتی ہے۔ کیا وہ میرے ساتھ بائیک پر ضروری کام سے جا سکتی ہے؟
براہِ مہربانی اس میں جید علمائے کرام سے گنجائش نکالیں، صرف گھر چلانے کے لیے۔ اس کو پیسے دیتا ہوں اور ہمارا آپس میں اور کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرآن و حدیث، جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ (یعنی حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کے متفقہ فتوے کی رو سے ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی حلالہ کے بغیر نیا نکاح۔ جو لوگ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کرتے ہیں، ان کا قول قرآن و حدیث، جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ کے متفقہ فتوے کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ اعتبار ہے، اور اس پر عمل درست نہیں ہے۔
تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد سابقہ بیوی کا آپ کے ساتھ ایک ہی رہائشی حصے میں بلا پردہ رہنا، آپ کے لیے چائے یا کھانا تیار کرنا، کپڑے دھونا یا ایسے امور انجام دینا جن میں مسلسل آمنا سامنا اور اختلاط ہو اور پردے کی رعایت نہ ہو سکے، شرعاً درست نہیں۔ اسی طرح انہیں اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے جانا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس میں جسمانی قربت اور نامحرم کے ساتھ اختلاط پایا جاتا ہے۔
اگر بچوں کی مصلحت اور مجبوری کے پیشِ نظر انہیں ساتھ رکھنا ضروری ہو تو یا تو اس کے لیے الگ گھر کا انتظام کیا جائے، اور اگر ان کے لیے الگ رہائش فوری طور پر ممکن نہ ہو تو اسی گھر کو دو مستقل حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، درمیان میں مؤثر پردہ یا علیحدگی کا انتظام ہو، اور تمام معاملات پردے کے شرعی تقاضوں کے مطابق انجام دیے جائیں۔ تو پھر سابقہ بیوی اس گھر میں رہ سکتی ہیں، اور آپ سابقہ بیوی اور بچوں کے اخراجات میں تعاون جاری رکھ سکتے ہیں، جو صلہ رحمی اور باعثِ اجر عمل ہے، لیکن اس کے بدلے ان سے اپنی ذاتی خدمت لینا درست نہیں ہو گا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی القرآن الکریم :
’’فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ(البقره ، آیت نمبر۲۳۰)
وفی أحكام القرآن للجصاص( ج: 5 ص: 415):
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
بدائع الصنائع :
"أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح ، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله : " أنت طالق " أو " أنت الطلاق ، أو طلقتك ، أو أنت مطلقة " مشددا۔"(کتاب الطلاق، فصل فی النیۃفی أحد نوعی الطلاق وھو کنایۃ،ج:۳،ص:۱۶۱، ط:سعید)
وفی الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم
يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(كتاب الطلاق، الباب السادس فی الرجعۃ وفیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ ،ج:۱،ص:۴۷۳، ط: رشیدیہ)
وفی الدرالمختار :
’’(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة)۔‘‘(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الطلاق،ج۔۳، ص۔۲۳۲،۳۳)
وفی الشامیة:
’’وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث۔۔۔۔أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، ولا يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة ألف تسمية كل في مجلد كبير لحكم واحد على أنه إجماع سكوتي. وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف۔‘‘(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الطلاق،ج۔۳،ص۔۲۳۳،ط۔سعید)
وفی صحیح البخاری :
" ٥٢٣٣ - حدثنا علي بن عبد الله: حدثنا سفيان: حدثنا عمرو، عن أبي معبد، عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم. فقام رجل فقال: يا رسول الله، امرأتي خرجت حاجة واكتتبت في غزوة كذا وكذا، قال: ارجع فحج مع امرأتك."( كتاب النكاح، باب: لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم، والدخول على المغيبة، ٧ / ٣٧، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی( الدر المختار 1/407:
" ولا یکلم الأجنبیۃ إلا عجوزا" (الدر المختار مع رد المحتار:6/369) وقال ایضا: " وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح " ثم قال العلامۃ ابن عابدین فی شرحہ: "قولہ: (علی الراجح): عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده ... نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب."
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/12/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


