| 92816 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
کیا صف میں خلا پُر کرنے کے لیے دورانِ نماز ہاتھ سے (ہاتھ کو غیر معمولی طور پر پھیلا کر) خلا پُر کیا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بلاعذر صف میں خلا چھوڑنا مکروہِ تحریمی ہے۔ لہٰذا اگر دورانِ نماز کسی وجہ سے صف میں خلا رہ جائے تو آس پاس کے نمازیوں کو چاہیے کہ عملِ کثیر کے بغیر اس خلا کو پُر کرلیں۔ البتہ خلا پُر کرنے کے لیے ہاتھوں کو غیر معمولی طور پر پھیلانانماز کی معتاد ہیئت کے خلاف ہے اور اس سے خشوع و خضوع متاثر ہوتا ہے۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ دونوں جانب کے نمازی قدرے قریب ہو جائیں، یا دونوں طرف سے تھوڑا تھوڑا سرک کر خلا کو پُر کرلیں، یا پھر تھوڑی مزید جگہ نکال لیں تاکہ پیچھے سے آنے والا کوئی نمازی وہاں کھڑا ہو سکے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوں کی درستگی اور ان کے درمیان خلا نہ چھوڑنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور صفیں سیدھی نہ کرنے یا ان کے درمیان خلا باقی رکھنے کی مذمت بیان فرمائی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوں کو درست کرو، اپنے کندھوں کو برابر کرو، خالی جگہوں کو پر کرو اور شیطان کے لئے خالی جگہیں نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا اللہ اسے (اپنی رحمت سے ) ملائے گا اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ اسے (اپنی رحمت سے ) کاٹ دے گا۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور فرمایا: تم ایسے صف بندی کیوں نہیں کرتے جیسے فرشتے اللہ تعالی کے ہاں صف بندی کرتے ہیں؟) تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اللہ تعالی کے ہاں کیسے صف بندی کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صفوں میں خلل نہیں چھوڑتے۔
حوالہ جات
صحیح مسلم (324/1) دار إحياء التراث العربي بيروت
عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سو واصفوفكم، فإن تسوية الصف من تمام الصلاة
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (2/ 8، رقم الحديث: 666) دار الرسالة العالمية
عن عبد الله بن عمر ؓأن رسول الله- صلى الله عليه وسلم -قال: "أقيموا الصفوف، وحاذوا بين المناكب، وسدوا الخلل، ولينوا بأيدي إخوانكم- لم يقل عيسى: بأيدي إخوانكم-، ولا تذروا فرجات للشيطان، ومن وصل صفا وصله الله، ومن قطع صفا قطعه الله.
إعلاء السنن: باب سنیۃ تسویۃ الصف ورصھا: ٤/ ٣٥٣، ٣٥٤:إدارۃ القرآن)
وفي حاشیۃ البخاري عن العیني: وھي (أي:تسویۃ الصفوف)سنۃ عند أبي حنیفۃ والشافعي ومالک رحمھم اللہ، قلت: والظاھر من کلام أصحابنا أنھا سنۃ مؤکدۃ لإطلاقھم الکراھۃ علی ضدھا، والکراھۃ المطلقۃ ھي التحریمۃ، وقد وقع التصریح بھا في کلام بعضھم کما سیأتي۔
المصنف لإبن شیبۃ ۳؍۲۹۰ رقم: ۳۸۴۲
عن خیثمۃ قال: صلیت إلی جنب ابن عمر فرأی في الصف فرجۃ فأومأ إلي فلم أتقدم، قال: فتقدم ھو فسدّھا
حاشیۃ ابن عابدین: ۲؍۳۸۸-۳۸۹ زکریا
روي أن أبا برزۃ رضي اللّٰہ عنہ صلی رکعتین آخذًا بقیاد فرسہ ثم انسل من یدہ، فمضی الفرس علی القبلۃ فتبعہ حتی أخذ بقیادہ، ثم رجع ناکصا علی عقبیہ حتی صلی الرکعتین الباقیتین … ثم اختلفوا في تاویلہ … وقیل: تاویلہ إذا مشی مقدار ما بین الصفین، کما قالوا: فیمن رأی فرجۃ في الصف الأول، فمشی إلیہا فسدھا، فإن کان ھو في الصف الثاني، لم تفسد صلا تہ وإن کان في الصف الثالث فسدت، ونص في الظہیریۃ: علی أن المختار أنہ إذا کثر تفسد۔
عبداللہ المسعود
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
۲۴/ربیع الاخر /۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


