03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میڈیکل لائسنس کرایہ پر دینے کا حکم
92109اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

اگر کوئی شخص میڈیکل اسٹور کھولنا چاہتا ہو، لیکن اس کے پاس میڈیکل اسٹور چلانے کے لیے مطلوبہ قانونی لائسنس یا متعلقہ اہلیت نہ ہو، تو وہ کسی دوسرے شخص سے اس کا لائسنس اپنے میڈیکل اسٹور کے لیے استعمال کرنے کی اجازت لے اور اس کے بدلے اسے ہر ماہ مثلاً 30 یا 40 ہزار روپے ادا کرے، جبکہ لائسنس دینے والا شخص خود اس دکان کا مالک یا کاروباری شریک نہ ہو، بلکہ صرف اپنا لائسنس استعمال کرنے دے، تو کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟

خصوصاً اگر لائسنس لینے کا مقصد یہ ہو کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ قانونی کارروائی یا لائسنس کی شرط سے بچا جا سکے اور دکان بظاہر لائسنس یافتہ دکھائی دے، حالانکہ حقیقت میں کاروبار وہ شخص کر رہا ہو جس کے پاس اپنا لائسنس یا مطلوبہ اہلیت نہیں۔

اس صورت میں درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں:

1۔ کیا کسی دوسرے شخص کا لائسنس ماہانہ رقم کے عوض استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟

2۔ اگر یہ ناجائز ہے تو کیا لائسنس استعمال کرنے والا اور اپنا لائسنس دینے والا، دونوں گناہ گار ہوں گے؟

3۔ کیا ماہانہ 30 یا 40 ہزار روپے لینا یا دینا اس معاملے کو شرعاً جائز بنا سکتا ہے؟

4۔ اگر حکومت نے لائسنس یا کسی اہل شخص کی موجودگی کو عوام کی صحت اور ادویات کے درست استعمال کے لیے لازم قرار دیا ہو، تو اس قانونی شرط کو صرف کاغذی طور پر پورا ظاہر کرنا شرعاً کس حکم میں آئے گا؟

5۔ اگر اس معاملے میں کسی تیسرے شخص، مثلاً مریض یا صارف کو نقصان پہنچ جائے، تو شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

براہِ کرم اس مسئلے کا تفصیلی اور واضح جواب عنایت فرمائیں، تاکہ حلال و حرام کی صحیح صورت معلوم ہو سکے اور کسی ناجائز معاملے میں مبتلا ہونے سے بچا جا سکے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فارمیسی کی ڈگری یا متعلقہ تعلیمی سند اس شخص کی تعلیمی قابلیت اور ادویات و طبی نسخوں سے متعلق اس کی علمی و فنی مہارت کی دستاویز ہوتی ہے۔ تاہم، محض تعلیمی سند کو میڈیکل اسٹور کا لائسنس قرار دینا درست نہیں؛ میڈیکل اسٹور قائم کرنے اور چلانے کے لیے متعلقہ حکومتی ادارے سے مقررہ لائسنس اور دیگر قانونی شرائط کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔

اگر کسی شخص کے پاس مطلوبہ اہلیت یا قانونی لائسنس موجود نہ ہو اور وہ کسی دوسرے شخص کے لائسنس کو استعمال کرکے میڈیکل اسٹور چلائے، جبکہ لائسنس رکھنے والا شخص حقیقتاً کاروبار میں شریک نہ ہو، تو اس صورت کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

1، 2۔ کسی دوسرے شخص کے لائسنس کو محض اس مقصد سے استعمال کرنا کہ غیر اہل شخص قانونی طور پر اہل یا لائسنس یافتہ ظاہر ہو، شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں جھوٹ، دھوکہ دہی اور خیانت کا عنصر پایا جاتا ہے، نیز اس کے ذریعے متعلقہ حکومتی قوانین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ بالخصوص جب یہ قوانین عوام کی صحت و سلامتی اور ادویات کے درست استعمال کی مصلحت کے پیشِ نظر وضع کیے گئے ہوں، تو ان کی پابندی ضروری ہے۔

مزید یہ کہ لائسنس ایک ایسا مالی مال نہیں جسے محض کرایہ پر دے کر اس سے اجرت حاصل کی جائے، خصوصاً جبکہ اس کا تعلق کسی مخصوص شخص کی اہلیت اور قانونی ذمہ داری سے ہو۔ لہٰذا کسی غیر اہل شخص کو اپنا لائسنس استعمال کرنے کی اجازت دینا اور اس کے عوض ماہانہ رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں۔

اسی طرح غیر اہل شخص کے لیے کسی دوسرے شخص کا لائسنس استعمال کرکے میڈیکل اسٹور چلانا بھی جائز نہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں لائسنس استعمال کرنے والا اور اپنا لائسنس استعمال کرنے کی اجازت دینے والا، دونوں ناجائز کام میں معاونت کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔

3۔ ماہانہ 30 یا 40 ہزار روپے لینا یا دینا اس معاملے کو شرعاً جائز نہیں بنا سکتا؛ کیونکہ کسی ناجائز کام کے عوض رقم مقرر کرنے سے وہ کام جائز نہیں ہوجاتا۔ لہٰذا اگر یہ رقم محض لائسنس کے ناجائز استعمال کی اجرت کے طور پر لی یا دی جارہی ہو تو اس طریقے سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی۔

4۔ حکومت میڈیکل اسٹور کے لیے لائسنس اور کسی اہل شخص کی موجودگی کی شرط عوامی مصلحت، صحتِ عامہ کے تحفظ اور ادویات کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مقرر کرتی ہے۔ چونکہ ایسی شرائط کسی ناجائز امر پر مبنی نہیں بلکہ جائز اور معتبر مصلحت کے پیشِ نظر مقرر کی جاتی ہیں، اس لیے ان کی پابندی شرعاً لازم ہے۔ لہٰذا محض کاغذی طور پر کسی اہل شخص کی موجودگی یا اس کے لائسنس کو ظاہر کرنا، جبکہ حقیقت میں مطلوبہ اہلیت رکھنے والا شخص موجود نہ ہو، شرعاً جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس میں حکومتی ضابطے کی خلاف ورزی کے ساتھ دھوکہ دہی کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔

5۔ طبیب کی دو قسمیں ہیں:۱۔حاذق۔ ۲۔جاہل۔

طبیب حاذق(ماہر) کا حکم:

اس کے لیے علاج کرنا جائز ہے اور اس سے رفع ضمان کے لئے دو شرائط ہیں:

۱۔ مریض یا اس کے ولی نے علاج کی اجازت دی ہو،۲۔ علاج اصول طبیہ کے مطابق ہو۔اگر ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو اور مریض کا نقصان ہوجائے تو ضمان واجب ہے۔اگر بلا اذن علاج کیا تو پورا ضمان واجب ہے اور اذن سے کیا تو اس میں یہ تفصیل ہے:

۱۔ علاج کا پورا طریقہ اور عمل اصول طبیہ کے خلاف ہو تو:اس صورت میں اگر مریض ہلاک ہوگیا تو پوری دیت لازم ہوگی اور اگر کوئی عضو تلف ہوگیا تو بحسب تفصیل فقہاء رحمہم اللہ تعالی ضمان واجب ہوگا۔۲۔ کچھ عمل اصول طبیہ کے مطابق کیا اور کچھ اس کے خلاف تو:اس صورت میں مریض ہلاک ہوگیا تو نصف دیت واجب ہوگی، اور اگر عضو تلف ہوگیا تو پورا ضمان واجب ہوگا، اور اگر عضو میں نقصان آیا تو موضع معتاد سے تجاوز کی وجہ سے جو نقصان ہوا اسی کی بقدر ضمان آئے گا۔

طبیب جاہل کا حکم:

اس کے لئے علاج کرنا جائز نہیں اور بہرصورت پورا ضمان واجب ہوگا، خواہ اصول طبیہ کے مطابق علاج کرے یا ان کے خلاف، مریض یا اس کے ولی کی اجازت سے علاج کرے یا بلا اجازت۔ تنبیہ:وجوب ضمان اس صورت میں ہے کہ علاج میں ڈاکٹر یا طبیب کا اپنا ہاتھ استعمال ہوا ہو، مثلا آپریشن کیا ہو یا انجیکشن لگایا ہو یا اپنے ہاتھ سے دواء پلائی ہو، اگر دواء بنا کر یا لکھ کر مریض کو دے دی، مریض نے خود اپنے ہاتھ سے دواء پی تو ضمان واجب نہ ہوگا۔البتہ تعزیر بہر صورت واجب ہے‘‘۔  أحسن الفتاوى  :(كتاب الجناية والضمان، 8/517-518، ط:سعيد)

حوالہ جات

(القرآن الکریم)

 "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ"(النساء:الآیة:59)

مختصر تفسير ابن كثير:1 / 408

"وقال ابن عباس: {وأولي الأمر منكم} يعني أهل الفقه والدين، وكذا قال مجاهد وعطاء {وأولي الأمر منكم} يعني العلماء، والظاهر أنها عامة في كل أولي الأمر من الأمراء والعلماء كما تقدم."

(عمدۃ القاری:21/474)

عن نافع ،عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما ،عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم،قال:السمع والطاعة حق ، ما لم يؤمر بالمعصية ،فإذا أمر بمعصية ،فلا سمع ،ولا طاعة.

قال العلامۃ العینی رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ:" قوله: السمع أي إجابة قول الأمير، إذ طاعة أوامرهم واجبة ما لم يأمر بمعصية ،وإلا فلا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. ويأتي من حديث علي رضی اللہ عنہ  بلفظ:" لا طاعة في معصية ،وإنما الطاعة في المعروف ...وذكر عياض:أجمع العلماء على وجوب طاعة الإمام في غير معصية، وتحريمها في المعصية".                     

 (بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ:  ۱؍۱۲۰)

"الترخیص التجاری:وما قلنا فی حکم الاسم التجاری والعلامۃ التجاریۃ من جواز الاعتیاض  عنھما یصدق علی الترخیص التجاری .....ولکن کل ذلک إنما یتاتی إذا کان فی الحکومۃ قانون یسمح بنقل ھذہ الرخصۃ الی رجل آخر ،أما إذا کانت الرخصۃ باسم رجل مخصوص أو شرکۃ مخصوصۃ ،ولا یسمح القانون بنقلھا إلی رجل آخر أو شرکۃ اخری ،فلا شبھۃ فی عدم جوازھا ، لأن بیعہ یؤدی  حینئذ إلی  الکذب والخدیعۃ ، فإن مشتری  الرخصۃ یستعملھا باسم البائع ، لا باسم نفسہ ، فلا یحل ذلک إلا بأن یوکل حامل الرخصۃ بالبیع و الشراء."                              

محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 29/صفر /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب