| 91760 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شادی شدہ جوڑے کی کوئی اولاد نہیں تھی، اور دونوں کے والدین بھی ان سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ شوہر کے چار بھائی اور تین بہنیں تھیں، جن میں سے ایک بھائی اور دو بہنیں پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ بیوی کی صرف ایک بڑی بہن تھی، جو اس سے پہلے وفات پا چکی تھی، جبکہ بیوی کی کوئی موروثی جائیداد نہیں تھی۔شوہر نے اپنی زندگی میں کچھ جائیداد بیوی کے نام خریدی تھی، لیکن نہ تو اس پر بیوی کو قبضہ دیا تھا اور نہ ہی اس میں مالکانہ تصرف کا اختیار دیا تھا۔ بعد میں بیوی شوہر کی زندگی ہی میں وفات پا گئی۔ اس کے بعد شوہر نے مذکورہ جائیداد دوبارہ اپنے نام منتقل کرا لی، اور تقریباً ایک سال بعد خود بھی وفات پا گئے۔شوہر نے اپنی وفات سے قبل اپنی کچھ جائیداد ایک ٹرسٹ کو دینے کی وصیت کی تھی، جس پر تین گواہ موجود تھے۔ اسی طرح ایک دکان، جس میں وہ گزشتہ پچاس سال سے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کاروبار کر رہے تھے، اپنے اسی بھائی کے نام کرنے کی وصیت کی تھی، اور ایک گاڑی اپنے ڈرائیور کو دینے کی بھی وصیت کی تھی۔شوہر کی وفات کے بعد ان کی جائیداد ان کے زندہ تین بھائیوں اور ایک بہن کے نام منتقل ہو گئی۔ بعد ازاں بیوی کی مرحوم بڑی بہن کی اولاد نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ مذکورہ جائیداد میں ان کا بھی حصہ بنتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کیا بیوی کی مرحوم بہن کی اولاد کا شوہر کی جائیداد میں شرعاً کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
2۔شوہر نے جو جائیداد بیوی کے نام خریدی تھی، لیکن اس کا قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار بیوی کو نہیں دیا تھا، پھر بیوی کی وفات کے بعد اسے دوبارہ اپنے نام منتقل کرا لیا، اس جائیداد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ شرعاً بیوی کی ملکیت شمار ہوگی یا شوہر ہی کی ملکیت رہے گی؟
3 ۔نیز شوہر کی طرف سے اپنی کچھ جائیداد ایک ٹرسٹ، ایک دکان اپنے بھائی اور ایک گاڑی اپنے ڈرائیور کے لیے وصیت کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں وراثت کے استحقاق کے صرف تین اسباب ہیں:نسب ( خونی رشتہ)، نکاح (میاں بیوی کا رشتہ) اور ولاء (آزاد کردہ غلام کا رشتہ)۔ شوہر اور اس کی بیوی کی بہن کی اولاد کے درمیان نہ نسب کا تعلق ہے، نہ نکاح کا، اور نہ ہی وراثت کا کوئی دوسرا شرعی سبب موجود ہے، لہٰذا شوہر کی جائیداد میں بیوی کی بہن کی اولاد کا کوئی حقِ وراثت نہیں بنتا اور ان کا دعویٰ شرعاً باطل ہے۔
2۔ شریعت میں ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے اور موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا جا رہاہے) کی ملکیت ثابت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ موہوبہ چیز پر موہوب لہ کو مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار دے دیا جائے۔ جب تک یہ شرط پوری نہ ہو، ہبہ شرعاً مکمل نہیں ہوتا اور جائیداد بدستور واہب (ہبہ کرنے والے) کی ملکیت میں رہتی ہے، خواہ موہوب لہ اجنبی ہو یا قریبی رشتہ دار، مثلاً بیوی۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ شوہر نے جائیداد صرف بیوی کے نام خریدی تھی، لیکن نہ اس پر قبضہ دیا اور نہ ہی اسے مالکانہ تصرف کا اختیار دیا، اس لیے یہ ہبہ شرعاً مکمل نہیں ہوا۔ فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ اگر قبضہ ملنے سے پہلے ہی واہب یا موہوب لہ میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو ہبہ باطل ہو جاتا ہے۔ چونکہ بیوی کی وفات تک اس جائیداد پر اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی تھی، اس لیے یہ جائیداد اس کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگی، بلکہ بدستور شوہر ہی کی ملکیت رہےگی اور اسی کے ترکہ کا حصہ شمار ہوگی، اس پر بیوی کے ترکہ کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔
3۔ شوہر نے وفات سے قبل جو وصیتیں کی تھیں، ان کا حکم وارث اور غیر وارث کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ غیر وارث کے حق میں کل ترکہ کے ایک تہائی (3/1) تک وصیت، دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر بھی نافذ ہو جاتی ہے۔
چنانچہ ٹرسٹ اور ڈرائیور چونکہ شرعی وارث نہیں ہیں، اس لیے ان کے حق میں وصیت کرنا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ ان کے لیے کی گئی مجموعی وصیت کل ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔ اگر ایک تہائی سے زیادہ ہو، تو زائد حصے کا نفاذ دیگر بالغ ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہوگا۔
البتہ بھائی کے حق میں وصیت کا حکم مختلف ہے۔ اگر شوہر کی وفات کے وقت مذکورہ بھائی اس کا شرعی وارث تھا، جیسا کہ صورتِ مسئولہ سے معلوم ہوتا ہے، تو اس کے حق میں وصیت شرعاً نافذ نہیں ہوگی، حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہے:
" لا وصیۃ لوارث " (وارث کے لیے وصیت نہیں ہے) ۔
البتہ اگر مرحوم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے تمام بالغ ورثاء اپنی خوش دلی سے دکان کے سوا دوسری جائداد آپس میں تقسیم کرلیں ااور دکان چھوٹے بھائی کے پاس رہنے دیں تو ایسا کرناجائز، بلکہ باعث اجر و ثواب ہوگا۔
حوالہ جات
«مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (2/ 747):
«(ويستحق الإرث بنسب ونكاح وولاء)»
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (2/ 398):
«ليس للهبة حكم قبل القبض بصورة مطلقة أي سواء أكان الموهوب له أجنبيا أم كان ذا رحم محرم: وبما أن تمام الهبة موقوف على القبض الكامل فبمجرد الإقرار بالهبة لا يكون إقرارا بالقبض. مثلا إذا أقر شخص قائلا: قد وهبت مالي الفلاني لفلان فعلى القول الأصح لا يعد الواهب قد أقر بأن الموهوب له قبض مال الموهوب " الأنقروي والهندية في الباب الحادي عشر،»
«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» (1/ 325):
«فإن مات الواهب قبل القبض بطلت الهبة، وكذا إذا مات الموهوب له أما إذا مات الواهب فلأن بموته زال ملكه وفات تسليطه كالموكل. وأما إذا مات الموهوب له فلأنه لما مات قبل قبضه لم يكن مالكا له فلم يكن موروثا عنه ولهذا قالوا إن الهبة ما لم تقبض فهي على ملك الواهب»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 558):
«ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن يجيز الورثة أكثر من الثلث ويقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 90):
«ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15/صفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


