| 88505 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے بھائی نے اپنی بیوی سے لڑائی میں کہا ہے کہ: "اگر میں نے دوسری شادی نہیں کی تو تمہیں طلاق۔"
طلاق کی تعداد بھی واضح نہیں کی (یعنی ایک، دو یا تین طلاق کا ذکر نہیں کیا) اور نہ ہی دوسری شادی کا وقت متعین کیا ہے۔
اب اگر وہ اپنی وفات سے پہلے دوسری شادی نہ کرے یا نہ کر سکے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟ مہربانی فرما کر اس کا جواب جتنا جلدی ہوسکے عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی سے یہ کہا تھا کہ: "اگر میں نے دوسری شادی نہیں کی تو تمہیں طلاق" تو اس صورت میں اگر شوہر نے ساری زندگی دوسرا نکاح نہیں کیا یا نہیں کر سکا، تو جب شوہر کا انتقال ہو رہا ہوگا، اس وقت یہ شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی کو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ البتہ چونکہ یہ طلاق رجعی ہوگی، لہٰذا بیوی بہرحال میراث میں حق دار رہے گی۔
حوالہ جات
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 341):
"(إن لم أطلقك وإذا لم أطلقك) هذه المسألة مع ما بعدها من التعليق لا الإضافة فذكرها فيه أنسب (أو إذا ما لم أطلقك لا)، يعني: لاتطلق (حتى يموت أحدهما)؛ لأنه جعل الشرط عدم طلاقها ولن يتحقق ذلك إلا باليأس، وذلك في آخر جزء من أجزاء حياته فتطلق قبيل الموت، وهذا يقتضي التسوية بين موته وموتها، وهو الأصح".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
08/03/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


