021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایزی پیسہ اکاؤنٹ بنانے کی اجرت کاحکم
77791سود اور جوے کے مسائلانشورنس کے احکام

سوال

ایک بندے   کو  کمپنی کی طرف  سے ڈیوائس ملی   ہے کہ  وہ   اس کے ذریعہ لوگوں کو جیز کیش   کا اکاؤنٹ بنا کر دیتا   ہے ،   رقوم کی  منتقلی نہیں ،اس کی  کمپنی  کی طرف  سے ایک خاص   مقدار  ہوتی ہے  وہ  ٹارگٹ   پوری کر کے دے   تو    اس  کو اجرت ملتی  ہے ۔                اب سوال یہ ہے   کہ  یہ  اجرت  جائز ہے  یا نہیں ؟

o

کسی بھی کام  پر  اجرت  جائز   ہونے کا  مدار اس کام کے جائز ہونے پر ہے۔لہذا کسی  کے لئے  ایزی  پیسہ اکاؤنٹ بنانے  کا عمل اگر رقوم کی  منتقلی، گیس  و  بجلی کے بل  جمع کروانے  جیسے  جائز  امور کے لئے  ہو   تو  جائز  ہے، اس مقصد  کے لئے   اکاؤنٹ   بنا کر  دینے کی اجرت  بھی حلال  ہے۔اگر  صرف  اس  اکاؤنٹ  میں رقم  جمع  کرواکر  سود  حاصل  کرنا  مقصود  ہو  تو  یہ عمل  حرام  ہے ،اس عمل کے لئے  ا کاؤنٹ  بنا کر دینا اور  اس پر اجرت لینا بھی  ناجائز  اور حرام  ہے ۔ اگر  اکاؤنٹ والے کی غرض   معلوم  نہ ہو  تو  بھی اکاؤنٹ  بنا کر  دینے کا عمل جائز   ہے، اس پر  اجرت لینا بھی  جائز  ہے لیکن  مشکوک  ہونے کی  بنا پر احتیاط  بہتر  ہے۔

حوالہ جات

۰۰۰۰۰

 احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

 دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١۷صفر ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔