021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چوری کی صورت میں چوکیدار پر ضمان کا حکم
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

گذشتہ دنوں ہمارے گودام میں چوری ہوئی ہے،ہم نے ایک چوکیدار بھی رکھا ہوا ہے۔چوکیدار سے جب پوچھا کہ چوری کیسے ہوئی ؟ اس نے جواب دیا کہ میں تو پوری رات جاگتا رہا ہوں اور مجھے تو پتہ نہیں چل سکا۔ہم نے اپنے طور پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ چور ساتھ والی بلڈنگ سے ہمارے گودام کی چھت پر کودے تھے اور پھر اندر سے نیچے گودام میں آئے ہیں،کچھ قیمتی سامان لے کر واپسی بھی اسی راستے سے گئے ہیں۔ہم نے چوکیدار سے کہا کہ چلو ٹھیک ہے تم اگر پورا نقصان نہیں بھرتے تو نہ بھرو مگر آدھا نقصان تو اٹھاؤ،وہ کہتا ہے کہ آپ کسی مفتی سے مسئلہ پوچھ لو، اگر شریعت مجھے حکم دیتی ہے نقصان اٹھانے کا تو میں سارا نقصان اٹھانے کے لیے بھی تیار ہوں۔شرعی رہنمائی فرمائیں۔

o

سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق چوکیدار مال کی کسی بھی مقدار کا ضامن نہیں ہوگا،کیوں کہ بقول سائل چوکیدار کو صرف دروازوں کی حفاظت کے لیے چوکیدار رکھنے کا عرف ہے اور چھت کی طرف سے کسی چور کے اندر جانے کا ذہن میں نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 71) (قوله وكذا لا ضمان على حارس السوق وحافظ الخان) قال في جامع الفصولين، استؤجر رجل لحفظ خان أو حوانيت فضاع منها شيء: قيل ضمن عند أبي يوسف ومحمد لو ضاع من خارج الحجرة؛ لأنه أجير مشترك وقيل لا في الصحيح، وبه يفتى؛ لأنه أجير خاص، ألا ترى أنه لو أراد أن يشغل نفسه في صنع آخر لم يكن له ذلك، ولو ضاع من داخلها بأن نقب اللص فلا يضمن الحارس في الأصح إذ الأموال المحفوظة في البيوت في يد مالكها وحارس السوق على هذا الخلاف اهـ وكذا في الذخيرة. قال في الحامدية: ويظهر من هذا أنه إذا كسر قفل الدكان وأخذ المتاع يضمن الحارس اهـ. مجمع الضمانات (ص: 34) استأجر رجلا لحفظ الخان فسرق من الخان شيء لا ضمان عليه لأنه يحفظ الأبواب أما الأموال فإنها في يد أربابها في البيوت وروي عن أحمد بن محمد القاضي في حارس يحرس الحوانيت في السوق فنقب حانوت فسرق منه شيء أنه ضامن لأنه في معنى الأجير المشترك؛ لأن لكل واحد حانوتا على حدة فصار بمنزلة من يرعى غنما لكل إنسان شاة ونحو ذلك وقال الفقيه أبو جعفر والفقيه أبو بكر الحارس أجير خاص ألا يرى أنه لو أراد أن يشغل نفسه في موضع آخر لم يكن له ذلك فلا يضمن الحارس إذا نقب حانوت؛ لأن الأموال محفوظة في يد ملاكها وهو الصحيح وعليه الفتوى من المشتمل.وفي الخلاصة حارس يحرس الحوانيت في السوق فنقب حانوت رجل فسرق منه شيء لا يضمن؛ لأن الأموال في يد أربابها وهو حافظ الأبواب كذا قال الفقيه أبو جعفر وعليه الفتوى وهذا قولهما أما عند أبي حنيفة لا يضمن مطلقا وإن كان في يده لأنه أجير. تكملة حاشية رد المحتار (2/ 471) وفي البزازية: نقب حانوت رجل وأخذ متاعه لا يضمن حارس الحوانيت على ما عليه الفتوى، لان الامتعة محروسة بأبوابها وحيطانها والحارس يحرس الابواب.وعلى قول أبي حنيفة: لا يضمن مطلقا وإن كان المال في يده لانه أجير.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔