021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مردوں کے کپڑے عورتوں کے لئے پہنناجائزنہیں
..جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

مردوں کاکپڑاعورت اپنے لئے (زنانہ طرزپر)سی کرپہن سکتی ہے یانہیں ؟بینواتوجروا

o

اگرمردوں کے کپڑوں کوزنانہ طورپراس طرح سی لیاجائے کہ مردوں کے کپڑوں سے مشابہت نہ ہوتوجائزہے ورنہ ناجائزہے ،اسی طرح رنگ اورڈیزائن کابھی یہی حکم ہے جورنگ اورڈیزائن مردوں کے ساتھ خاص ہیں وہ رنگ اورڈیزائن والاکپڑا عورتیں نہیں پہن سکتی اورجورنگ اورڈیزائن عورتوں کے ساتھ خاص ہیں وہ رنگ اورڈیزائن والے کپڑے مردنہیں پہن سکتے ۔کیونکہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے ان عورتوں پرلعنت فرمائی جومردوں کے ساتھ مشابہت اختیارکرتی ہیں ،اسی طرح ان مردوں پربھی لعنت فرمائی ہے جوعورتوں کے ساتھ مشابہت اختیارکرتے ہیں۔

حوالہ جات

"مشكاة المصابيح للتبريزي" 2 / 505: وعنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : " لعن الله المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال " . رواه البخاري "مرقاۃ المفاتیح " 8/217: قال النووی: المخنث ضربان :الثانی من یتکلف اخلاق النساء وحرکاتہن وسکناتہن وکلامہن وزیہن فہذاھوالمذموم الذی جاءفی الحدیث لعنہ۔رواہ البخاری وکذااحمدابوداؤدوالترمذی وابن ماجۃ ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔