021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرانے نوٹوں اور سکوں کی زیادہ قیمت پر خریدوفروخت
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

پرانے نوٹ اور سکے کا اس سے کئی گنا زیادہ قیمت پر بیچنا یا خریدنا جائزہے یا نہیں؟

o

پرانے نوٹوں اور سکوں کی حیثیت نوادرات اور عام مال کی سی ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ان کو نوادرات کے طور پر جمع کرتے اوراپنے پاس رکھتےہیں،لہذا ایسے سکوں اور نوٹوں کوجن کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے اور انہیں عوض کے طور پر قبول نہ کیا جاتا ہو، اپنی قیمت سے زیادہ پر خریدنا اور بیچنا جائز ہے۔

حوالہ جات

وفي تبيين الحقائق: "وهذا بخلاف ما إذا كانت كاسدة لأنها مبيعة فالمبيع لا يصح إطلاق العقد عليه ما لم يتعين اهـ." (ج:4,ص:143, المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق) وفي الجوهرة النيرة: "قوله: (وإن كانت كاسدة لم يجز البيع بها حتى يعينها) لأنها خرجت من أن تكون ثمنا وما ليس بثمن لا بد من تعيينه في حالة العقد كالثياب وقيد بالكساد؛لأنها إذا غلت،أو رخصت كان عليه رد المثل بالاتفاق كذا في النهاية." (ج:1,ص:224, المطبعة الخيرية) وفي تبيين الحقائق: "(قوله في المتن والفلس بالفلسين بأعيانهما) قيل: الضمير يرجع إلى الفلسين؛ لأن الفلس الواحد مبيع وهو متعين ضرورة." (ج:4,ص:90, المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق)
..

n

مجیب

سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔