021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قبرپرعلامت کے لئے پتھروغیرہ لگاناجائزہے اگرمٹ جائے تودوبارہ بھی لگاسکتے ہیں
..جنازے کےمسائلجنازے کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاؤں میں ایک مولوی صاحب نے ایک مسئلہ یہ بتایاکہ اگرکوئی شخص فوت ہوجائے توفوت ہونے کے بعد اس کی قبرکااگرکوئی نشان باقی نہ رہے تونئے سرے سے اس کی قبرپرنیاپتھرنشانی کے طورپرنہیں لگاسکتے کیونکہ دوبارہ اس فوت شدہ آدمی سے حساب شروع ہوگا۔ اس مسئلے کے بارے میں آپ حضرات کیافرماتے ہیں ؟قرآن وحدیث میں کیااس کے بارے میں کوئی نص موجودہے ؟

o

اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ،قبرپرنشانی کے لئے کوئی علامت پتھروغیرہ لگانااوراس پرمیت کانام اورتاریخ وفات لکھناجائزہے ،اگروہ مٹ جائے تودوبارہ بھی لگاسکتے ہیں،تاہم تختی پربسم اللہ الرحمان الرحیم یاآیات لکھنامکروہ ہے ۔

حوالہ جات

"سنن أبي داود" 3 / 203: حدثنا عبد الوهاب بن نجدة حدثنا سعيد بن سالم ح وحدثنا يحيى بن الفضل السجستانى حدثنا حاتم - يعنى ابن إسماعيل - بمعناه عن كثير بن زيد المدنى عن المطلب قال لما مات عثمان بن مظعون أخرج بجنازته فدفن أمر النبى -صلى الله عليه وسلم- رجلا أن يأتيه بحجر فلم يستطع حمله فقام إليها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وحسر عن ذراعيه - قال كثير قال المطلب قال الذى يخبرنى ذلك عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال - كأنى أنظر إلى بياض ذراعى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين حسر عنهما ثم حملها فوضعها عند رأسه وقال « أتعلم بها قبر أخى وأدفن إليه من مات من أهلى ۔ " مراقي الفلاح"1 / 233: ( ولا بأس ) أيضا ( بالكتابة ) في حجر صين به القبر ووضع ( عليه لئلا يذهب الأثر ) فيحترم للعلم بصاحبه ( ولا يمتهن )۔ " تبيين الحقائق" 3 / 211: وقيل لا بأس بالكتابة أو وضع الحجر ليكون علامة لما روي { أنه عليه الصلاة والسلام وضع حجرا على قبر عثمان بن مظعون۔ "حاشية رد المحتار" 2 / 25: وإن احتيج إلى الكتابة، حتى لا يذهب الاثر ولا يمتهن فلا بأس به، فأما الكتابة بغير عذر فلا اه.حتى أنه يكره كتابة شئ عليه من القرآن أو الشعر أو اطراء مدح له ونحو ذلك.حلية ملخصا۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔