021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قبرستان میں داخل ہوتے وقت جومردوں کوسلام کیاجاتاہے تومردے سنتے ہیں
..جنازے کےمسائلمردوں اور قبر کے حالات کا بیان

سوال

فتویٰ نمبر: سوال: جب بندہ قبرستان میں داخل ہوتاہے تویہ دعاءپڑھتاہے :السلام علیک یااھل القبور۔اس میں یاحرف نداہے توکیااس کامطلب یہ ہواکہ قبرستان میں دفن سارے مردے حیات ہیں ،اوروہ قبرستان میں آنے والے سارے بندوں کودیکھ اورسن رہے ہیں ،حالانکہ یہ عقیدہ توصرف حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورشہداء کے متعلق نہیں ہوناچاہئے ؟

o

سماع موتی کے مسئلہ میں اختلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے چلاآرہاہے ،بخاری شریف کی روایت میں ہے حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قلیب بدرکے پاس جاکرآوازدی ھل وجدتم ماوعدربکم حقا،بعض صحابہ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکیاآپ مُردوں سے مخاطب ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:ماانتم باسمع منہم ولکن لایجیبون اوریہ بھی فرمایاانہم الآن یسمعون ماأقول۔یعنی آپ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہیں ،لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے اور جوکچھ میں ابھی کہہ رہاہوں، وہ لوگ سن رہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکےسامنے جب اس کاتذکرہ کیاگیاتوفرمایاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا انہم لیعلمون الآن ماکنت اقول لہم حق(جوکچھ میں ان سے کہہ رہاہوں وہ اس کوحق سمجھتے ہیں ) نہ کہ یسمعون (وہ سن رہے ہیں )گویاحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی تردید کی ،پھرآیت کریمہ انک لاتسمع الموتی پیش فرمائی ،لیکن علمائے کرام نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ الفاظ کوترجیح دی ہے ،اس لئے کہ وہ موقع پرموجودتھے ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاموقع پرموجود نہیں تھیں ۔ جوآیت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے پیش فرمائی ہے ،عموماسماع موتی کے منکرین وہی آیت پیش کرتے ہیں ،مگراس آیت کامطلب حضرت مولاناسرفرازخان صفدررحمہ اللہ تعالی تسکین الصدورمیں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اس آیت کایہ مطلب نہیں کہ مردے سنتے نہیں ،بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے حق میں سماع مفید اورنافع نہیں،کیونکہ جب تکلیفی زندگی ختم ہوچکی ہوتوپھرایمان لانے اورتوبہ کرنے کاکیامعنی ؟پس یہی حال زندہ کافروں کاہے کہ وہ سنتے توہیں مگران کوسماع مفید اورنافع نہیں ،کیونکہ وہ ایمان نہیں لاتے اورحق کوقبول نہیں کرتے ،خودقرآن کریم میں اس کی تصریح موجودہے: ان تسمع الامن یؤمن بآیاتنافھم مسلمون۔ ترجمہ: تونہیں سناسکتامگران کوجوہماری آیات پرایمان لاتے ہیں پس وہ مسلمان ہیں۔(تسکین الصدورص391 ) بہرحال یہ اختلاف چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے چلاآرہاہے اس لئے اس میں غلوٹھیک نہیں ،جوانکارکرتے ہیں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی اتباع میں اورجوقائل ہیں وہ حضرت عبداللہ بن عمرکے قول کے مطابق ،لہذاایک دوسرے کی تفسیق وتکفیرہرگزجائزنہیں ۔ اصل یہ ہے کہ مردوں میں موت کے بعد سننے کی طاقت نہیں رہتی ،جیساکہ قرآن کریم تصریح ہے ،قال اللہ تعالی فانک لاتسمع الموتی( سورۃ الروم آیت نمبر 52 ) لیکن جس وقت اللہ تعالی کسی مصلحت سے انہیں کوئی آوازسناناچاہے توسنادیتاہے حدیث میں جوتیوں کی آوازسننے کاذکرہے وہ اسی پرمحمول ہے کہ اللہ تعالی عبرت کے لئے اس کوآوازسنادیتاہے،اورروایات سے سلام کاسماع ثابت ہے ،لہذاجن چیزوں کے سننے کااحادیث صحیحہ میں ذکرہے انہیں ثابت ماناجائے ،اس کے علاوہ اللہ تعالی کی مرضی پرموقوف ہے ،سناناچاہے توسنادے ،نہ چاہے تونہ سنائے ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ الفاطرآیت 42 : ان اللہ یسمع من یشاء وماانت بمسمع من فی القبور۔ " احکام القرآن" 3/163 : فانہ تعالی بقدرتہ یسمع الاموات اصوات الاحیاءاذاشاء ویھدی من یشاء ویضل من یشاء۔ "صحیح البخاری " 1/178: عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال العبد اذاوضع فی قبرہ وتولی وذھب اصحابہ حتی انہ یسمع قرع نعالہم أتاہ ملکان الخ۔ "صحیح البخاری " 1 /183 : قال نافع ان ابن عمر اخبرہ قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی أھل القلیب فقال :ھل وجدتم ماوعدربکم حقافقیل لہ تدعوامواتافقال ماانتم باسمع منہم ولکن لایجیبون وعن عائشۃ رضی اللہ عنھاقالت انماقال االنبی صلی اللہ علیہ وسلم انھم لیعلمون الآن ماکنت اقول لھم حق وقدقال اللہ تعالی انک لاتسمع الموتی۔ "المعتصر من المختصر من مشكل الآثار" 1 / 51: وقد استنبط جوازه مما روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يخرج إلى المقبرة ويقول السلام عليكم دار قوم مؤمنين فإنه إذا أجاز ذلك في أهل المقبرة كان في النبي صلى الله عليه وسلم أجوز وهذا حسن قال القاضي لكن قول أبي عبيد أحسن لأنه عليه السلام سلم على أهل القبور بحضرتهم وقد جاء أن الأرواح قد تكون بأفنية القبور في الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم عن أبي مسعود الأنصاري أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في مجلس فقال له بشير بن سعد أمرنا الله تعالى أن نصلي عليك فكيف نصلي عليك فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا أنه لم يسأله ثم قال قولوا اللهم صل على محمد وعلى آل محمد " معارج القبول شرح سلم الوصول إلى علم الأصول" 2 / 518: وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقبور المدينة فأقبل عليهم بوجهه فقال السلام عليكم يا أهل القبور الله يغفر لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر رواه الترمذي وقال حسن 2 وكذلك الأحاديث في خروجه صلى الله عليه و سلم إلى بقيع الغرقد كثيرا يدعو لهم ويترحم عليهم 3 وكان الصحابة إذا أتوا قبره صلى الله عليه و سلم صلوا وسلموا عليه فحسب كما كان ابن عمر رضي الله عنهما يقول السلام عليك يا رسول الله السلام عليك يا أبا بكر السلام عليك يا أبتاه 4 وكذا التابعون ومن بعدهم من أعلام الهدى۔ "جامع الأحاديث لجلال الدين السيوطي " 19 / 169: ما من رجل يزور قبر حميمه فيسلم عليه ويقعد عنده إلا رد عليه السلام وأنس به حتى يقوم من عنده ۔ "الروح في الكلام على أرواح الأموات " 1 / 11: ذكر أبو عمر بن عبد البر من حديث ابن عباس عن النبي ما من رجل يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام ويروى هذا الحديث أبي هريرة مرفوعا قال فإن لم يعرفه وسلم عليه رد عليه السلام قال ويروى من حديث عائشة رضى الله عنها أنها قالت قال رسول ما من رجل يزور قبر أخيه فيجلس عنده إلا استأنس به حتى يقوم واحتج الحافظ أبو محمد في هذا الباب بما رواه أبو داود في سننه من حديث أبي هريرة قال قال رسول الله ما من أحد يسلم على إلا رد الله على روحي حتى أرد عليه السلام قال وقال سليمان بن نعيم رأيت النبي في النوم فقلت يا رسول الله هؤلاء الذين يأتونك ويسلمون عليك أتفقه منهم قال نعم وأرد عليهم قال وكان يعلمهم أن يقولوا إذا دخلوا المقابر السلام عليكم أهل الديار۔ ۔۔۔۔۔۔ "احکام القرآن للتھانوی"3 /165،181 : ان مسئلۃ سماع الموتی وعدمہ من المسائل التی وقع الخلاف فیھا۔۔ومذھب اھل السنۃ والجماعۃ ان ارواح الموتی تردفی بعض الاوقات من العلیین اومن سجین الی اجسادھم فی قبورھم عندارادۃ اللہ تعالی وخصوصافی لیلۃ الجمعۃ ویجلسون ویتحدثون وینعم اھل النعیم ویعذب اھل العذاب۔ "رد المحتارعلی الدرالمختار" 14 / 434: مطلب في سماع الميت الكلام وأما الكلام فلأن المقصود منه الإفهام والموت ينافيه . ولا يرد ما في الصحيح من { قوله صلى الله عليه وسلم لأهل قليب بدر هل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا فقال عمر أتكلم الميت يا رسول الله ، فقال عليه الصلاة والسلام : والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع من هؤلاء أو منهم } " فقد أجاب عنه المشايخ بأنه غير ثابت يعني من جهة المعنى ، وذلك لأن عائشة ردته بقوله تعالى - { وما أنت بمسمع من في القبور } - { إنك لا تسمع الموتى } - وأنه إنما قاله على وجه الموعظة للأحياء ، وبأنه مخصوص بأولئك تضعيفا للحسرة عليهم ، وبأنه خصوصية له عليه الصلاة والسلام معجزة ، لكن يشكل عليهم ما في مسلم { إن الميت ليسمع قرع نعالهم إذا انصرفوا } " إلا أن يخصوا ذلك بأول الوضع في القبر مقدمة للسؤال جمعا بينه وبين الآيتين فإنه شبه فيهما الكفار بالموتى لإفادة بعد سماعهم وهو فرع عدم سماع الموتى هذا حاصل ما ذكره في الفتح هنا۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔