021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طہارت کے بغیر نماز پڑھانے کاحکم
..نماز کا بیاننماز کی شرائط کا بیان

سوال

۲۔ میں نے جوانی کے ابتدائی زمانے میں اپنی غفلت کی وجہ سے بارہا جنابت کی حالت میں نماز پڑھادی اب اللہ تعالی نے محض اپنے فضل وکرم سےمجھے توبہ کی توفیق دی ، لیکن مجھے ان نمازوں کی تعداد صحیح طرح یاد نہیں اور یہ بھی صحیح یاد نہیں کہ کس کس نے میری اقتداء میں نماز پڑھی ہے اس کے بعد سے ابتک کئی سال بیت چکے ہیں میں نے اپنے طورپر فیصلہ کیا کہ جن جن لوگوں کے بارے میں مجھے گمان ہےکہ انہوں نے میری اقتدا ءمیں نمازیں پڑھی ہیں ان کی طرف سے از خود ان کو بتا ئے بغیر 50 یا 60 نمازوں کا فدیہ ادا کردوں جو ایک محتا ط اندازہ ہے تو کیا شرعا فدیہ ادا ہوجائے گا یا کوئی اور صورت اختیار کروں ؟

o

۲۔قصدا بغیر طہارت کے نماز پڑھنا ،یا پڑھانا،بہت بڑا گناہ ہے ،بعض فقہا ء نے اس کو کفر قرار دیا ہے اس لئے اس گناہ سے خوب توبہ واستغفار کریں ،دوسری بات یہ ہے کہ جونمازیں خود کی یا دوسروں کی خراب ہوئی ہیں فدیہ سے ان کی تلافی نہیں ہوسکتی بلکہ کی ان نمازوں کی قضاء لازم ہے، آپ نے اپنی نمازیں توقضاء کرلیں جیسا اوپر سوال میں اس کا ذکر ہے ،دوسروں کی نماز کے لئے دیانة آپ پر لازم ہے کہ آپ اس مسجد کےان نمازیوں کو انفرادی طور پر مطلع کر یں جن کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ انہوں نے آپ کی اقتداء میں نمازیں پڑھی ہیں ،کہ میری امامت کے دوران مسائل سے ناواقفیت کی وجہ سے کچھ نمازیں خراب ہوئی ہیں ان کی تعداد تقریبا پچاس ساٹھ ہوگی وہ اندازااتنی نمازیں دوبارہ پڑھیں ،اب اگر کچھ لوگوں کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ محلہ چھوڑ کر جاچکے ہیں ان کوبھی کسی طرح اطلاع کردیں تاکہ وہ بھی اپنی نمازیں قضا ء کرلیں ۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (1/ 132) عن ابى صالح عن ابى هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (الامام ضامن والمؤذن مؤتمن اللهم ارشد الائمة واغفر للمؤذنين) . الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 59 "ومن اقتدى بإمام ثم علم أن إمامه محدث أعاد " لقوله عليه الصلاة والسلام " من أم قوما ثم ظهر أنه كان محدثا أو جنبا أعاد صلاته وأعادوا " وفيه خلاف الشافعي رحمه الله تعالى بناء على ما تقدم ونحن نعتبر معنى التضمن وذلك في الجواز والفساد "
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔