| 92256 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں ایک ٹریول کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں جہاں ایئر لائن کے ٹکٹ فروخت کیے جاتے ہیں، اور مجھے کمپنی کی طرف سے اس کام کی ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ میرے چند شرعی مسائل ہیں، براہِ کرم قرآن و سنت اور شرعی اصولوں کی روشنی میں درج ذیل صورتوں کی رہنمائی فرمائیں:
1۔ میرا ایک دوست "زید" دوسری ٹریول کمپنی میں کام کرتا ہے۔ اگر میرے پاس کوئی گاہک (مثلاً "بکر") ٹکٹ کے لیے آئے، تو اصولی طور پر مجھے اپنی کمپنی کا ٹکٹ فروخت کرنا چاہیے جس کا منافع کمپنی کو ملتا ہے۔ لیکن اگر میں وہی ٹکٹ اپنی کمپنی کے بجائے زید سے لے کر بکر کو فروخت کروں اور اس پر ملنے والا منافع یا کمیشن اپنے پاس رکھ لوں، تو کیا یہ میرے لیے شرعاً حلال ہے؟ مزید یہ کہ کیا اس شرعی حکم میں کوئی فرق پڑے گا کہ وہ مطلوبہ ٹکٹ میری اپنی کمپنی کے پاس دستیاب تھا یا نہیں؟
2۔ میرے کچھ گاہک ایسے ہیں جو میں نے خالصتاً اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر بنائے ہیں۔ وہ دفتر نہیں آتے بلکہ مجھے ذاتی نمبر پر رابطہ کر کے ٹکٹ بک کرواتے ہیں اور رقم بھی میرے ذاتی اکاؤنٹ میں بھیجتے ہیں۔ اگر میں ڈیوٹی کے اوقات کے بعد (فری ٹائم میں) ایسے ذاتی گاہکوں کو اپنی کمپنی کے بجائے زید کے ذریعے ٹکٹ لے کر دوں اور اس کا منافع اپنے پاس رکھوں، تو کیا یہ کمائی میرے لیے شرعاً جائز ہوگی؟
3۔ کمپنی کے مالک نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مقررہ تنخواہ کے علاوہ مجھے سیلز پر کمیشن بھی دیا جائے گا، لیکن وہ اب مجھے صرف تنخواہ دے رہے ہیں اور کمیشن ادا نہیں کر رہے ہیں۔ کمپنی کی اس حق تلفی کی صورت میں کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اپنے گاہکوں کو زید کے ذریعے ٹکٹ بیچ کر اپنا کمیشن یا منافع خود نکال لوں؟
4۔ میں نے حال ہی میں ایک ٹکٹ اپنی کمپنی کے بجائے زید سے لے کر بکر کو فروخت کیا اور اس کا منافع اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ اس واقعے کو 2 سے 3 ماہ گزر چکے ہیں۔ اگر شرعاً یہ منافع ناجائز ہے تو میں اس کا ازالہ کیسے کروں؟ چونکہ کمپنی کو حقیقت بتانے کی صورت میں میرا اعتماد ختم ہو جائے گا اور ملازمت جانے کا شدید خدشہ ہے، تو کیا میں یہ رقم کمپنی کو کسی خفیہ طریقے سے واپس کروں؟ یا اسے اللہ کی راہ میں غریبوں کو صدقہ کر دوں؟ شرعی طور پر تلافی کا محفوظ اور درست طریقہ کیا ہے؟
5۔ مذکورہ بالا تمام صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے براہِ کرم واضح فرمائیں کہ بحیثیت ملازم مجھ پر کمپنی کے کیا حقوق عائد ہوتے ہیں؟ کیا کمپنی کی اجازت کے بغیر زید کے ساتھ اس طرح کا کام کرنا جائز ہے؟ اور آئندہ مجھے اپنی کمائی کو مکمل حلال اور طیب رکھنے کے لیے کس لائحہ عمل پر عمل کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- ڈیوٹی کے اوقات میں کمپنی سے رابطہ کرنے والے گاہکوں کو کمپنی کے بجائے اپنے دوست (زید) سے ٹکٹ خرید کر بیچنا ناجائز، گناہ اور دھوکہ ہے۔ اس عمل کی شرعاً بالکل گنجائش نہیں ہے، چاہے اس وقت کمپنی کے اپنے ٹکٹ دستیاب ہوں یا نہ ہوں۔ دونوں صورتوں میں گاہک کو اپنے دوست سےکسی اور کمپنی کا ٹکٹ خرید کر بیچنا درست نہیں ہے۔
اس کے ناجائز ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
اول: آپ کمپنی کے کل وقتی (فل ٹائم) ملازم ہیں اور اس وقت کی تنخواہ لے رہے ہیں، گویا آپ نے اپنا وہ وقت کمپنی کو بیچ دیا ہے۔ اس لیے ڈیوٹی کے اوقات میں کوئی اور ذاتی کام یا کاروبار کرنا شرعاً جائز نہیں۔
دوم: کمپنی اس عمل پر بالکل راضی نہیں ہے۔ چونکہ سائل کی تصریح کہ اگر کمپنی کو اس بات کا علم ہو جائے تو وہ ناراض ہو گی اور ملازم کو نوکری سے فارغ بھی کر سکتی ہے، سے صاف ظاہر ہے کہ کمپنی کی اس کام میں قطعاً رضامندی شامل نہیں ہے۔ لہٰذا، مالکان کی اجازت کے بغیر یہ عمل شرعی اور تجارتی دونوں لحاظ سے صریح خیانت ہے۔
- کمپنی کے وقت کے علاوہ (ڈیوٹی کے اوقات کے بعد) اپنے کسی واقف یا ذاتی گاہک کو اس طریقے سے کسی اور سے ٹکٹ خرید کر بیچنا اور اس پر کمائی کرنا حلال اور جائز ہے۔ البتہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس میں جھوٹ اور دھوکہ وغیرہ شامل نہ ہو، اور نفع پہلے سے طے کر کے وصول کیا جائے۔
- اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اس وقت کمیشن کی شرح یا مقدار بالکل واضح طور پر متعین ہوئی تھی یا نہیں:
اگر معاہدے میں کمیشن کی شرح یا مقدار واضح طور پر طے ہوئی تھی، تو یہ آپ کی اجرت کا حصہ ہے اور ٹکٹ فروخت کرنے کا کام مکمل ہونے پر یہ کمپنی کے ذمے آپ کا ثابت شدہ حق اور دین (واجب الادا قرض) بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کمپنی کا مالک آپ کو کمیشن ادا نہیں کر رہا ہے، تو بطورِ کمیشن جتنی رقم آپ کا حق بنتی ہے، آپ اتنی ہی رقم کسی اور کمپنی کا ٹکٹ بیچ کر وصول کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ اگر کبھی اس سے زیادہ کمیشن وصول ہو جائے، تو یا تو آپ اسے اپنی کمپنی کے کھاتے میں ڈال دیں یا اسے بغیر نیتِ ثواب صدقہ کر دیں۔
لیکن اگر ملازمت کے وقت کمیشن کی شرح یا مقدار بالکل واضح اور متعین نہیں تھی، بلکہ صرف یہ کہا گیا تھا کہ سیلز پر کمیشن ملے گا، تو شرعی طور پر یہ محض ایک وعدہ تھا۔ اسے پورا نہ کرنے پر کمپنی کا مالک دیانتاً گناہ گار تو ہوگا، لیکن قانوناً یہ کوئی واجب الادا دین یا قرض نہیں بنتا۔ لہٰذا ایسی صورت میں آپ کے لیے کمپنی کے اوقاتِ کار میں کسی اور کمپنی کا ٹکٹ بیچنے کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے۔
- جو آمدن آپ نے کمپنی کے وقت میں دوسری جگہ سے ٹکٹ فروخت کر کے کما لی ہے، اس کا واضح حکم یہ ہے کہ اس کمائی گئی رقم کو فوراً صدقہ کر دیا جائے۔
جو وقت کمپنی کا ہے، اس میں صرف کمپنی کا کام کریں اور ذاتی کام یا نفع کمانے سے مکمل گریز کریں۔آپ زید یا کسی بھی دوسرے شخص کے ساتھ صرف اپنے ذاتی اوقات (ڈیوٹی کے بعد) میں کام کر سکتے ہیں، جو کہ حلال ہے۔ڈیوٹی کے اوقات میں خیانت اور دھوکے سے بچیں، اور ذاتی وقت میں جو بھی کاروبار کریں اس میں جھوٹ سے بچتے ہوئے معاملات اور نفع واضح طور پر طے کر کے کام کریں۔
حوالہ جات
«الاختيار لتعليل المختار» (2/ 54):
وخاص كالمستأجر شهرا للخدمة ورعي الغنم ونحوه) لأن منافعه صارت مستحقة للمستأجر طول المدة فلا يمكنه صرفها إلى غيره
«مرشد الحيران إلى معرفة أحوال الإنسان» (ص80):
«ليس للأجير الخاص أن يعمل في مدة الإجارة لغير مستأجره وإن عمل للغير ينقص من الأجر بقدر ما عمله وليس له أن يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة حتى لا يصلي النافلة.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 55):
«وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 70):
«قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة»
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 711):
«(المادة 610) الأجير الخاص أمين. فلا يضمن المال الهالك بيده بغير صنعه وكذلك لا يضمن المال الهالك بعمله بلا تعد.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 526):
«ولا يطيب له بل يرده على المالك وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يتصدق به. كذا في القنية في باب بقاء الإجارة»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 151):
«قال الحموي في شرح الكنز نقلا عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن شرح القدوري للأخصب: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم العقوق»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 69):
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 70):
«وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل»
«صحيح البخاري_ط التاصیل» (7/ 182):
«- باب إذا لم ينفق الرجل فللمرأة أن تأخذ بغير علمه ما يكفيها وولدها بالمعروف
• [5355] حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام قال: أخبرني أبي، عن عائشة، أن هند بنت عتبة قالت: يا رسول الله، إن أبا سفيان رجل شحيح، وليس يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم، فقال: "خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف".
«فتح الباري» لابن حجر (9/ 509 ط السلفية):
«واستدل به على أن من له عند غيره حق وهو عاجز عن استيفائه جاز له أن يأخذ من ماله قدر حقه بغير إذنه، وهو قول الشافعي وجماعة، وتسمى مسألة الظفر، والراجح عندهم لا يأخذ غير جنس حقه إلا إذا تعذر جنس حقه، وعن أبي حنيفة المنع، وعنه يأخذ جنس حقه، ولا يأخذ من غير جنس حقه إلا أحد النقدين بدل الآخر، وعن مالك ثلاث روايات كهذه الآراء، وعن أحمد المنع مطلقا، وقد تقدمت الإشارة إلى شيء من ذلك في كتاب الأشخاص والملازمة، قال الخطابي: يؤخذ من حديث هند جواز أخذ الجنس وغير الجنس؛ لأن منزل الشحيح لا يجمع كل ما يحتاج إليه من النفقة والكسوة وسائرالمرافق اللازمة، وقد أطلق لها الإذن في أخذ الكفاية من ماله، قال: ويدل على صحة ذلك قولها في رواية أخرى: وإنه لا يدخل على بيتي ما يكفيني وولدي.قلت: ولا دلالة فيه لما ادعاه من أن بيت الشحيح لا يحتوي على كل ما يحتاج إليه؛ لأنها نفت الكفاية مطلقا، فتناول جنس ما يحتاج إليه وما لا يحتاج إليه، ودعواه أن منزل الشحيح كذلك مسلمة، لكن من أين له أن منزل أبي سفيان كان كذلك؟ والذي يظهر من سياق القصة أن منزله كان فيه كل ما يحتاج إليه إلا أنه كان لا يمكنها إلا من القدر الذي أشارت إليه، فاستأذنت أن تأخذ زيادة على ذلك بغير علمه، وقد وجه ابن المنير قوله: إن في قصة هند دلالة على أن لصاحب الحق أن يأخذ من غير جنس حقه بحيث يحتاج إلى التقويم؛ لأنه عليه الصلاة والسلام أذن لهند أن تفرض لنفسها وعيالها قدر الواجب، وهذا هو التقويم بعينه بل هو أدق منه وأعسر.
توثيق الديون على المذاهب الفقهية الأربعة: (ص: 318، ط: مكتبة معارف القرآن)
مسئلة الظفر في الفقه الإسلامي:
٣٢٧- إن ظفر الدائن بشيئ من مال المديون، هل يجوز له أن يستوفي دينه بالمال المظفور به؟
وجواب المسئلة فيه تفصيل حسب ما يأتي
۱-إن كان المديون مقراً بالدين باذلاً له، لم يكن للظافر أن يأخذ مما ظفر به، إلا ما يعطيه المديون برضاه، ويقول ابن قدامة رحمه الله:
«وهذا لا خلاف فيه بين أهل العلم، فإن أخذ من ماله شيئا بغير إذنه لزمه رده إليه، وإن كان قدر حقه، لأنه لا يجوز أن يملك عينا من أعيان ماله بغير اختياره لغير ضرورة، وإن كان من جنس حقه، لأنه قد يكون للإنسان غرض في العين.
٢- إن كان المديون مانعا للدين لأمر يبيح المنع، كالتأجيل والإعسار، لم يجر أخذ شيئ من ماله بغير خلاف. وإن أخذه لزمه رده إن كان باقيا أو عوضه إن كان تالفا.
۳-وإن كان المديون مانعا له بغير حق، وقدر الدائن على استخلاصه بالحاكم، فللشافعية فيه وجهان: أحدهما: أنه لايجور له الأخذ بنفسه، والآخر: يجوز و رجحه النووي رحمه الله، وهو الراجح في رماننا، لصعوبة رفع القضية إلى الحاكم.
٤- وإن كان المدين جاحداً، ولا بينة له فيه، ولايقدر الدائن على استخلاصه بالحاكم، ولايجيبه إلى المحاكمة، ففيه خلاف………أما الحنفية، فمذهبهم في الأصل أن الظافر إن ظفر بمال من جنس حقه، جاز له أن يستوفي حقه منه، وإن كان المظفور به من غير جنس حقه، فلا يجوز له ذلك، لأنه يحتاج لاستيفاء حقه إلى بيعه، ولا يجوز له أن يبيع مال غيره بغير إذن منه، ولكن أفتى المتأخرون بجواز الأخذ ولو كان المال المظفور به من غير جنس الحق قال ابن عابدين رحمه الله:
«قال الحموي في شرح الكنز نقلاً عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن شرح القدوري للأخصب إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان، لاسيما في ديارنا لمداومتهم العقوق......فصار مذهب الحنفية الآن مثل مذهب الشافعية. وهو رواية عند المالكية والحنابلة أيضا، كما قدمناه من نصوصهم. وفی بحوث في قضايا فقهية معاصرة» (ص370):
) المعايير الشرعية: (ص: 123، رقم المعيار: 4)
الدين هو ما يثبت في الذمة - من غير أن يكون معينا مشخصا - بأي سبب يقتضي ثبوته، سواء أكان نقدا أم سلعة أم منفعة موصوفة من منافع الأشياء أو الأشخاص مثل الثمن في بيع الأجل، وبدل القرض.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18 /ربیع الاول /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


