021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرایہ دار کے لیے شفعہ کا حکم
..شفعہ کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

میں گزشتہ ساڑھے آٹھ سال سے مکان نمبر290/A-ابراہیم خمیسہ گوٹھ -نیوکراچی میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہوں۔اس مکان کا مالک عبدالمجید نامی بندہ ہے۔ میں نےاتنا عرصہ اس مکان میں رہائش کے ساتھ اس کی دیکھ،بھال اور نگرانی بھی کی۔ قبضہ مافیا کے راستے میں بھی رکاوٹ بنا رہا۔ اس بات پر مالک مکان بھی کہتے ہیں کہ آپ ہمارے محسن ہیں۔ جس زمین میں مکان ہے،پہلےاس کاکل رقبہ 416 گزتھا۔2012ء میں مالک مکان نے مجھے کہا کہ جب مکان بکے گا ،تو ہم آپ کو اس پلاٹ میں سے 80 گز کا پلاٹ دیں گے۔اب 240 گز زمین فروخت ہوچکی ہےاور بقیہ 160 میں سے 80گز میں میری رہائش ہے اور باقی 80گزبھی مالکان نے فروخت کر دی۔میری بڑی فیملی ہے، میں نے ان کو کہا بھی کہ یہ 180 گز زمین آپ مجھے دے دیں لیکن انہوں نے آگے فروخت کردی۔آپ سے استدعا ہےکہ میرے لیے اس زمین میں حق شفعہ کی وضاحت فرمائیں۔ مجھے 80 گز پلاٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا ،وہ بھی نہیں دیا گیا۔اسی طرح ساڑھے آٹھ سال کی جو تنخواہ شریعت اور گورنمنٹ کے معیار کے مطابق بنتی ہے، مجھے دلوائی جائے۔ (مستفتی نے بتایا کہ اتنے عرصے سے وہ بلا کرایہ اس زمین میں رہائش پذیر ہےاور مالک نے کہا تھا کہ آپ ہماری ساری زمین کی حفاظت کریں ،ہم آپ کو خوش کردیں گے۔ اسی کے بعد کچھ عرصہ تنخواہ دیتے رہے)

o

سوال میں تین باتوں سے متعلق پوچھا گیاہے:حق شفعہ،وعدہ کی خلاف ورزی اور نگرانی کی اجرت۔ ان تینوں کا جواب بالترتیب ذیل میں ملاحظہ ہو:پہلی بات کا جواب تو یہ ہےکہ اس زمین میں آپ کو شفعہ کا حق حاصل نہیں۔ اس لیےکہ حق ِشفعہ حاصل ہونے کے لیے اپنی ملکیت ہوناضروری ہے۔ یہ ملکیت بیچی جانی والی زمین یا اس سے متصل زمین یا اس زمین میں ہونا ضروری ہے،جو راستہ اور پانی کے حقوق میں بیچے جانی والی زمین کے ساتھ مشترک ہو۔جبکہ یہاں آپ کی سرے سے کوئی ملکیت نہیں ہے،بلکہ آپ ساڑھے آٹھ سال سے یہاں(کسی دوسرے کی زمین میں) رہائش پذیر ہیں۔ جہاں تک وعدہ کی بات ہےتو اس حوالے سے شریعت کا حکم یہی ہےکہ دیانتہً وعدہ پورا کرناانسان پرلازم ہے۔ بلا مجبوری وعدہ خلافی کو حدیث میں منافق کی نشانی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔اس لیے مالک مکان کو چاہیے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے، خاص طورپر جبکہ آپ نے اتنا عرصہ اس کی زمین کی دیکھ بھال بھی کی اور وہ آپ کو اپنا محسن بھی مانتا ہے۔ تاہم اگر مالک مکان وعدہ پورا کرنے سے انکار کر دے تو اس کو وعدہ خلافی کا گناہ تو ضرور ہوگا،لیکن اس کو وعدہ پورا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ تیسری بات کا جواب یہ ہےکہ اگر واقعی مالک نے آپ کو زمین کی نگرانی کے لیے کہا تھا اور اجرت کی کوئی بات نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ ہم آپ کو خوش کر دیں گے،تو یہ اجارہ فاسدہ کی صورت ہےجس میں اجرت متعین اور معلوم نہیں ہے۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ مالک کے کہنے کے بعد جتنا عرصہ آپ نے نگرانی کی ہےاس کی اجرت مثل کے آپ حق دار ہیں۔اجرت مثل کا مطلب یہ ہےکہ اگر اس طرح کےمکان کی نگرانی کے لیےآپ جیسےکسی شخص کو باقاعدہ چوکیداررکھا جاتا تو عام عرف کے مطابق اس چوکیدار کو جتنے پیسے دیے جاتے ،اتنے پیسوں کے آپ حق دار ہیں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی القرآن المجید: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ } [المائدة: 1] { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ} [الصف: 2، 3] وفی صحيح البخاري: "عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان " (ج:1,ص:16, دار طوق النجاة) و في الدر المختار: " (وسببها اتصال ملك الشفيع بالمشترى) بشركة أو جوار." (ج:6,ص:217, دار الفكر-بيروت) وفی مجلة الأحكام العدلية: "(المادة 462) فساد الإجارة ينشأ بعضه عن كون البدل مجهولا وبعضه عن فقدان باقي شرائط الصحة. ففي الصورة الأولى يلزم أجر المثل بالغا ما بلغ وفي الصورة الثانية يلزم أجر المثل بشرط أن لا يتجاوز الأجر المسمى. " (ص:88, آرام باغ، كراتشي) وفی الجوهرة النيرة : "(قوله: والواجب في الإجارة الفاسدة أجرة المثل لا يتجاوز بها المسمى) . وقال زفر له أجرة المثل بالغة ما بلغت وهذا إذا كان المسمى معلوما أما إذا كان مجهولا كما إذا استأجر على دابة، أو ثوب، أو استأجر دارا على أن يعمرها فإنه يجب أجر المثل بالغا ما بلغ إجماعا وكذا إذا استأجر أجيرا ولم يسم له أجرا يجب له أجر المثل بالغا ما بلغ" (ج:1,ص:272, المطبعة الخيرية)
..

n

مجیب

سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔