021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی میراث میں بیوی کاحق
..القرآنالفاتحہ

سوال

۲۔اوراس لڑکی کو اپنے مرحوم شوہر کی میراث سے حصہ ملےگا یانہیں ؟ جبکہ اب لڑکی کی دوسری جگہ شادی ہو چکی ہے اس سے اس کا حق میراث ساقط ہواہے یا نہیں ؟

o

صورت مسئو لہ میں شوہر کے ترکہ میں بیوی کاحق حقوق متقدمہ علی الارث﴿ یعنی قرض اور وصیت ﴾کے بعد جومال باقی بچے اس کا چوتھائی حصہ ہے، دوسری جگہ شادی کرنے سے یہ حق ساقط نہیں ہوا لہذا سسر پر لازم ہے شوہر کی میراث میں اس عورت کا جو حق بنتا ہے وہ اس کے حوالے کرے،ورنہ حق میراث روکنے وجہ سے بڑا سخت گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات

{ وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا (4)} [النساء: 4] {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (24)} [النساء: 24] رد المحتار (9/ 500) ( قوله ويتأكد ) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول ، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية : قال في البدائع : وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك ، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع .ا هـ .
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔