021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رسم ورواج کی وجہ سے بہن کا میراث سے حصہ نہ لینے کاحکم
..القرآنالفاتحہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کےبارے میں کہ شوہر اور بیوی کا انتقال ہوگیا ہے،ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،ان دونوں کا جائیداد میں جو حصہ بنتا ہے انہوں نے وہ اپنے بھائیوں کے لیے دووجوہات کی بناء پر چھوڑ دیا ہے: ١۔خاندان کا رسم ورواج ایسا ہے کہ لڑکی کوحصہ دیا نہیں جاتا یا پھر لڑکی اگر اپنے حصے کا مطالبہ کرے تو اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے،اس وجہ سے لڑکی خود ہی اپنا حصہ بھائیوں کے چھوڑ دیتی ہے۔ ۲۔لڑکیوں نے اس وجہ سے اپنا حصہ بھائیوں کو دے دیا ہے ﴿یعنی اپنے بھائیوں سے اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کررہیں ﴾کہ کہیں والدین کی روح کو تکلیف نہ ہو ہمارے مطالبہ کرنے کی وجہ سے ۔ مفتیان کرام ان دونوں صورتوں کے متعلق شریعت کی رو سے امت کو کیا حکم اورسبق ملتا ہے؟راہنمائی فرمائیں۔

o

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے،میت کے انتقال کےبعد،اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اور اس کی وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے شرعی وارثوں کا حق بن جاتا ہے ،لہذا اگر کوئی وارث اپنے حق سے زیادہ لیتا ہےیا کسی وارث کو محروم کر دیا جاتا ہےیا میراث کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں سےہٹ کر تقسیم کیا جاتا ہے تو یہ تمام کام گناہ ہیں اور قرآنِ کریم میں ایسے لوگوں کو جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

حوالہ جات

{إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 9] ترجمہ:"یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں،اور جلد ہی انہیں دہکتی ہوئی آ گ میں داخل ہونا ہو گا۔" دوسری جگہ ارشاد فرمایا: { لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]"ترجمہ:آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ۔" تیسری جگہ ارشاد فرمایا: { وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا } [الفجر: 19]"ترجمہ :اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔"اس کے بعد کی آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرمایا کہ ان ناجائز کاموں سے باز آجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں میراث کے ذیلی احکام میں وارثوں کےحصوں کو جس تفصیل سے واضح طور پر بیان کیا ہے اس تفصیل سے کسی اور حکم کے ذیلی احکام بیان نہیں فرمائے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کو انہی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: {لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا } [النساء: 7] "ترجمہ : مردوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،اورعورتوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے )مقرر ہے۔" یہ تنبیہ اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ اگر فلاں وارث کو اتنا حصہ ملتا تو اچھا ہوتا،یا فلاں کوکم ملنا مناسب تھا،اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہیں مصلحت کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے،اللہ تعالیٰ نے جس کا جو حصہ مقرر فرمادیا ہے وہی مناسب ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن:ص۱۸۸) عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل : أنه خاصمته أروى - في حق زعمت أنه انتقصه لها - إلى مروان فقال سعيد أنا أنتقص من حقها شيئا أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ( من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ) (صحيح البخاري :3 / 1168) ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے ناحق کسی کی ایک بالشت زمین بھی لی تو تو اللہ رب تعالی قیامت کے دن اس کو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔" ١۔لہذا مذکورہ تفصیل کی روشنی میں لڑکیوں کا اپنا حصہ چھوڑنے سے لڑکوں کا نہیں ہوجاتا،بلکہ وہ بدستور انہی کا رہتا ہے،اس لیے شرعی تقسیم کرکے ہرایک کواس کا حصہ دینا فرض ہے،لڑکیاں اپنا حصہ لینے کے بعد جسے چاہیں اپنی خوشی سے دے سکتی ہیں۔ ۲۔شریعت پر عمل کرنے سے والدین کی روح کوتکلیف نہیں بلکہ خوشی ہوتی ہے،اولاد کے خلاف شرع کام کرنےسے والدین کو آخرت میں مشکل کاسامنا ہوسکتا ہے۔لہذا یہ بات بالکل بے اصل ہے کہ بیٹی اگر میراث کا مطالبہ کرے تو والدین کی روح کو تکلیف ہوتی ہے۔
..

n

مجیب

شفاقت زرین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔