021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف کی جگہ کووقف کی مصالح کے لئے بیچنا
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

بعدازسلام ایک مسئلہ کے بارے میں عرض کرناچاہتاہوں کہ ہماراایک مدرسہ ہے مسمی "مدرسۃ البنات تحفیظ القرآن "اس کے لئے ایک جگہ خردیدی گئی تھی اوروقف للمدرسۃ تھی اورتعمیر بھی بنی تھی ،اب یہ مدرسہ اسی جگہ گھرگیاہے کہ راستہ تقریبابندہونے کوہے،کیونکہ چاروں طرف لوگوں نے زمینیں خرید کروہاں مکاں بنوائے،اب مسئلہ یہ پوچھناہے کہ اگرہم اس جگہ کوبمع تعمیر بیچ دیں،اوران پیسوں پرکسی دوسری جگہ زمین خریدکرتعمیر کروالیں،تویہ شرعاہمارے لئے جائزہوگایانہیں؟

o

اگراس جگہ میں مدرسہ کے مقاصدحاصل ہورہے ہوں اگرچہ تھوڑی بہت مشکلات کے ساتھ ہوتواس کوفروخت کرنے کی اجازت نہیں،البتہ اگرصورت حال ایسی ہوکہ مدرسہ کے مقاصد(طلبہ کی آمدورفت اورتعلیم وتعلم کاسلسلہ اوران کے لئے ضروری انتظامات )کے حصول میں شدیدمشکلات کاسامناکرناپڑرہاہو،اورمشکلات وقتی اورعارضی نہ ہوں،بلکہ دائمی اورمسلسل ہوں توپھر اس جگہ کوفروخت کرنے اوردوسری متبادل جگہ میں مدرسہ قائم کرنے کی اجازت ہوگی۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" 18 / 451: وليس للقيم ولاية الاستبدال إلا أن ينص له بذلك۔ "الفتاوى الهندية" 18 / 454: ولو كان الوقف مرسلا لم يذكر فيه شرط الاستبدال لم يكن له أن يبيعها ويستبدل بها وإن كانت أرض الوقف سبخة لا ينتفع بها كذا في فتاوى قاضي خان وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه ، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش كذا في البحر الرائق وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل كذا في النهر الفائق۔ "رد المحتار" 17 / 209: ( فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن ) ( قوله : فإذا تم ولزم ) لزومه على قول الإمام بأحد الأمور الأربعة المارة عندهما بمجرد القول ، ولكنه عند محمد لا يتم إلا بالقبض والإفراز والتأبيد لفظا ، وعند أبي يوسف بالتأبيد فقط ولو معنى كما علم مما مر ( قوله : لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ، ولا يعار ، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر۔ "الاسعاف "32 : وامااذالم یشترط فقداشارفی السیرالی أنہ لایملکہ الاالقاضی اذارأی المصلحۃ فی ذالک،ویجب ان یخصص برأی أول القضاۃ الثلاثۃ المشارالیہ بقولہ علیہ الصلاۃ والسلام ،قاضی فی الجنۃ وقاضیان فی النار،المفسر بذای العلم والعمل لئلایحصل التطرق الی ابطال الوقف کماھوالغالب فی زماننا۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔