021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کاحصہ بھائیوں کو مشترکہ طور پر دیدینا
..ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو ا ورثہ میں اس کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ، انتقال کے بعد ترکہ اولاد میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوا ، بڑے بیٹے نے بھائی بہنوں سے کہا زمین تقسیم کرکے ہر ایک کاحصہ کاغذ میں لکھ دیا گیا اآو اپنی زمین میراث والی لے لو تو ان میں سےایک بہن نے پو ری زمین لے لی دوسری بہن جو ان سب بھا ئیوں سے بڑی تھیں ا س نے کہا میری میرا ث میں سے آدھا حصہ آپ بھا ئی لے لیں اور آدھا حصہ مجھے دے دیں تو ان میں ایک بھا ئی نے تو کہا میں آپ کی میرا ث والی زمین نہیں لیتا ۔تو اس بھائی نے تو اپنی پو ری میراث والی زمین لے لی۔اوربڑی بہن نے آدھی لی ۔با قی تین بھا ئی بچے تو وہ مشترکہ طور پر آدھا حصہ بہن کی میرا ث کاحصہ کھاتے رہے ،کئی سال بعد اچا نک ماموں اور بھا نجے کا جھگڑا ہو گیا تو بھا نجے نےماموں کو کہا آپ میری ماں کی زمین جو آدھی آپ کے پا س ہے واپس کر دو تو اس بڑی بہن نے بھی اپنے بھا ئی سے کہا آپ میراآدھا حصہ جو آپ کے پاس بچا ہو ا ہے واپس کر دو ۔خلا صہ یہ ہے کہ بھا ئی کا دعوی ہے کہ وہ زمین تو آپ نے ہدیہ دی تھی بڑی بہن یہ پو چھنا چاہتی ہے کہ قرآن وحدیث کی رو شنی میں اب میرا حصہ ختم ہو گیا یا نہیں؟ حا لانکہ میں نے تو ہدیہ کا لفظ بھی استعما ل نہیں کیا بس یہی کہا تھا کہ آپ آدھا زمین اپنے پاس رکھو اور آدھی مجھے دے دو اس جھگڑا کے بعد اور بھا ئیوں نےبہن کی زمین واپس کر دی تھی بڑے بھائی نے نہیں کی ۔

o

صورت مسئولہ میں بہن نے اپنے حصہ کی آدھی زمین بھائیوں کو مشترکہ طور پر ھبہ کی جبکہ قابل تقسیم چیز بغیر تقسیم کئے کئی لوگوں کو دینا شرعا غیر معتبر ہے لہذا وہ زمین اب بھی اسی بہن کی ملک میں باقی ہے ۔

حوالہ جات

رد المحتار (24/ 9) و ) شرائط صحتها ( في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول ) كما سيتضح . رد المحتار (24/ 20) ( وتتم ) الهبة ( بالقبض ) الكامل ( ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به ) الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223) قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة"
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔