021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مخبوط الحواس مریض کی نمازکا حکم
..نماز کا بیانمریض کی نماز کا بیان

سوال

میری والدہ کی وفات ہوچکی ہے ،انہوں نے تقریبا ڈیڑھ سال تک نماز نہیں پڑھی کیونکہ وہ فالج کے مرض میں مبتلا تھی ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ایک ہاتھ اور پاؤں میں حرکت نہیں تھی اور صحیح طور پر بات بھی نہیں کرپاتی تھی،کچھ کرنےکاکہتے تو ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ ہاں۔پیشاب کی حاجت بھی غیر ارادی تھی جس کی وجہ سے کپڑے ناپاک رہتے تھے ،تو ہم ان کو پیمپر پہناکر رکھتے تھے ،نماز پڑھانے کی ہم نے کوشش بہت کی مگر کہنے پر اشارہ نہیں کرتی تھی جب پڑھنے کا بولتے تو صرف ہاں بولکر خاموش بیٹھی رہتی شاید وہ فالج کی بیماری کی وجہ سے نماز بھول چکی تھی ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس دوران جونمازیں چھوٹ گئی ہیں ان نمازوں کا فدیہ اداکرنا لازم ہے یا نہیں ؟ اگر لازم ہے تو کتنا لازم ہے وہ فدیہ خیرات کرنا ہوگا یاکسی مدرسہ کو بھی دیاجاسکتا ہے ؟

o

سوال میں مذکور خاتون کی حالت اگر ایسی ہوگئی تھی کہ ان کو آگ پانی ،بہو بیٹی ،لڑ کا لڑکی کی تمیز ختم ہوگئی تھی تب تو وہ بیہوش اور مجنون کے حکم کی میں ہونے وجہ سے ان کے ذمہ سے نماز ساقط ہوجائے گی ،بعد میں فدیہ بھی لازم نہیں ۔اگر حالت اس حد تک خراب نہیں تھی بلکہ کبھی ذھول ہوجا تاتھا اوراکثر اوقات میں ہوش وحواس درست ہی رہتےتھےتونمازان کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوئی لہذا بیماری کے ایام میں جونمازیں قضاء ہوئی ہیں ان کا حساب کرکےفدیہ ادا کرنالازم ہے بشرطیکہ انہوں نے ترکہ میں مال چھوڑا ہو اور فدیہ کی وصیت بھی کی ہو ۔اگر وصیت نہیں کی یامال نہیں چھوڑا تب بھی اگر ورثہ اپنی طرف سےان کا فدیہ اداکردیں تو بھی اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالی فدیہ قبول فرمالیں گے ہیں ۔

حوالہ جات

رد المحتار (5/ 332) ( قوله وعليه صلوات فائتة إلخ ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء ، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت ، بأن كانت دون ست صلوات ، لقوله عليه الصلاة والسلام { فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه } وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة ، وتمامه في الإمداد . مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت . ( قوله يعطى ) بالبناء للمجهول : أي يعطي عنه وليه : أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى ، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار ، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر ، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير ، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا ، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد .ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليہ وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى ، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص ، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 102) (ومن جن أو أغمي عليه) ولو بفزع من سبع أو آدمي (يوما وليلة قضى الخمس وإن زاد وقت صلاة) سادسة (لا) للحرج. ولو أفاق في المدة، فإن لإفاقته وقت معلوم قضى وإلا لا (زال عقله ببنج أو خمر) أو دواء (لزمه القضاء وإن طالت) لأنه بصنع العباد كالنوم.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔