کیا کسی شخص کے ذبیحہ کو صرف اس وجہ سے حرام قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ اہلِ بدعت طبقہ سے تعلق رکھتا ہے یا ان کی مسجد میں نماز پڑھتا ہے یا ختم، چالیسواں یا چراغاں کے افعال میں شرکت کرتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
محض بدعتیوں کے ساتھ تعلق اور بدعات میں شرکت کی وجہ سے کسی مسلمان کے ذبیحے کو حرام قرار دینا درست نہیں۔ بدعتی اگرچہ گناہ گار ہوتا ہے، لیکن دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لیے بدعتی شخص کا ذبیحہ حلال ہے۔