021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوشل میڈیا پر پیج لائک کروا کر پیسے کمانے کاحکم
57784اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

آج کل پیج لائکس اور گروپ بیچنے کا کاروبار چل رہا ہے ۔پیج لائک کروا نے کے پیسے لیے جارہے ہیں ۔ تفصیلات کچھ اس طرح ہے۔ (Rs. 200 = 400 Likes) (Rs. 1000 = 2000 likes) (Rs. 3000 = 6000 Likes) (Rs. 10000 = 30000 Likes) (Rs. 100000 = 300000 Likes) کیا لوگوں سے پیجز لائک کروا کر پیسے کمانا جائز ہے؟

o

پیجز لائک کروانے کا مقصد عموماًایڈورٹائزنگ ہوتا ہے ۔ایڈورٹائزنگ اگر جائز کام کی ہو تو جائزہے۔مذکورہ سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق یہ متعین عمل پر اجارہ ہے لہٰذا اگر مذکورہ پیش کیا جانے والا مواد ناجائز چیزوں پر مشتمل نہ ہو تو اس کو لائک کروا کر اس کی تشہیر کروانا اور اس ذریعے سے پیسے کمانا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (16/ 42) ولو استأجر رجلا يكتب له مصحفا، أو فقها معلوما كان جائزا؛ لأن الكتابة عمل معلوم وهو يتحقق من المسلم والكافر، ثم الاستئجار عليه متعارف وقيل الاستئجار على الكتابة كالاستئجار على الصياغة؛ لأن بعمله يحدث لون الحبر في البياض أو كالاستئجار على النقش، وذلك جائز إذا كان معلوما عند أهل الصنعة.(قال) الشيخ الإمام - رحمه الله - الأصح عندي أن المقصود هنا يحصل بعمل الأجير وهي الكتابة بخلاف التعليم فالمقصود هناك لا يحصل إلا بمعنى في المتعلم وإيجاد ذلك ليس في وسع المعلم بينهما… الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 9) (و) يعلم النفع أيضا ببيان (العمل كالصياغة والصبغ والخياطة)…
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔