021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرام آمدن کاحکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔درج ذیل مسئلہ درپیش ہے جس کے لیے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔میں سرکاری ملازم ہوں اور پنجاب حکومت کے شعبہ ماہی پروری (فشریز) میں اپنی خدمت عرصہ نو سال سے سر انجام دے رہا ہوں ۔اس عرصہ میں بندہ نے اپنا دامن حتی الامکان محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ جنوری 2016 میں میرا ٹرانسفر اپنے آبائی ضلع مظفر گڑھ میں ماہی پروری کے اس شعبہ میں ہوا جہاں بچہ مچھلی پیدا کی جاتی ہے اور اس کو بیچ کر پیسہ حکومتی خزانے میں جمع کروایا جاتا ہے۔ اس دوران دفتر میں پیسے کے لین دین کی ذمہ داری کسی نہ کسی کے سپرد کی جاتی ہے ۔میں عموماً پیسوں اور خصوصاً سرکاری پیسوں کے لین دین میں ملوث ہونے یا ذمہ داری لینے سے اجتناب کرتا ہوں ۔میرے لاکھ انکار کے باوجود میری نام نہاد ایمانداری کی وجہ سے اس دفعہ یہ ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ میں نے اپنی طرف سے مکمل ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دیے۔ اس دفتر میں ہر سال حکومتی ہدف 16 لاکھ روپے کا ہوتا ہے جو کہ بخوبی پورا کرلیا جاتا ہے ،اس دوران بھی اور ہدف پورا ہونے کے بعد بھی تمام رقم افسرِ مجاز کی صوابدید پر ہوتی ہے ۔وہ خود بھی خرچ کرتے ہیں اپنے اوپراور اپنی مرضی سے جہاں دل کرے خرچ کرتے ہیں ۔(یہ بات صرف خزانچی کو پتہ ہوتی ہے اور اس دوران خزانچی ہونے کے ناطے مجھے بھی مکمل طور پر اس سارے سسٹم سے آگاہی ہوئی)۔ عید الفطر کے موقع پر افسرِ مجاز نے تمام اہلکاروں کو بشمول مجھے عیدی دی ۔وہ رقم اور اس کے علاوہ نادانستگی میں کچھ اور رقم میرے پاس بچ گئی مبلغ 11445 روپے میرے ذاتی خرچ میں آگئے،جن پر میرا کوئی حق نہ تھا۔صرف چھ ماہ اپنے فرائض انجام دینے کے بعد میرا تبادلہ اسی ضلع کے ایک اور دفتر میں ہوگیا ہے، جس میں سیٹ اپ بالکل مختلف ہے ۔نئے دفاتر بننے ہیں ،فش فارمز بننے ہیں وغیرھم۔پچھلے دفتر کی وہ بچ جانے والی رقم میرے ضمیر پر ایک بوجھ ہے جو میں بوقتِ تبادلہ چند وجوہ بشمول سستی ، پیسوں کی عدم دستیابی اور مستقبل میں کسی اچھے موقع کی امید پر اس افسر مجاز کو واپس نہ دے سکا ۔ اب اگر میں وہ رقم واپس کرتا ہوں تو درج ذیل خدشات تنگ کرتے ہیں ۔ 1۔میں پہلے سے ہی ایک انتہائی ایماندار اہلکار مشہور ہوں ۔مزید اب ریا کاری کا ڈرامہ لگنے کا خدشہ ہے لوگوں کے دلوں میں خیال آئے گا۔۔۔۔۔ 2۔افسرِ مجاز سمیت تمام لوگوں کے دلوں میں یہ بات آسکتی ہے کہ 4 ماہ گزرنے کے بعد ایک دم کیسے خیال آگیا پیسے واپس کرنے کا۔ 3۔افسرِ مجاز یہ سوچ سکتا ہے کہ لاکھوں روپے کے لین دین میں 11445 روپے کے علاوہ اس اہلکار نے کتنے پیسے خود رکھ لیے ہوں آف دی ریکارڈ؟ کیوں کہ اس دفتر میں جس کو بھی یہ ذمہ داری سونپی گئی ان سے ہزاروں سے لے کر لاکھوں تک کے لین دین میں فرق آیا ۔الحمد للہ صرف بندہ ناچیز ہی با عزت طریقے سے اس ذمہ داری سے علیٰحدہ ہوا ۔(لیکن در حقیقت وہ بھی نہیں ) 4۔ رقم واپس کی گئی تو اس سال حکومتی خزانے میں نہیں جائے گی بلکہ افسرِ مجاز ہی اسے استعمال کرے گا۔ ان تمام تحفظات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے آپ کی رہنمائی درکار ہے ۔ 1۔آیا کیا وہ رقم موجودہ دفتر میں لگائی جاسکتی ہے۔۔۔؟لیکن یہ دفتر نیا اور عارضی ہے جس کا فیصلہ 2018 ء کے بعد ہونا ہے کہ اسے بند کردیا جائے یا مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔ 2۔کیا وہ رقم بغیر ثواب کی نیت سے کسی کو صدقہ دی جاسکتی ہے۔۔۔؟ 3۔کیا آئندہ شروع ہونے والے مالی سال کےآغاز میں ہی بچہ مچھلی خرید کر (سابقہ دفتر سے) کسی نہر یادریا فارم سرکاری وغیرہ میں ڈال دیا جائےاور وہ رقم افسرِ مجاز کی صوابدید پر حسبِ معمول باقی رقوم کے ساتھ جہاں مرضی خرچ ہو لیکن بندہ اس سے بری الذمہ ہو جائے گا ۔لیکن آخر الذکر حل کی صورت میں سرکاری اہلکاران ، ڈرائیور حضرات جو خرید بچہ مچھلی اور پہنچ کے ذمہ داران ہیں ۔وہ اہلکاران اس بات سے واقف ہوجائیں گے کہ بندہ نے بے کار میں یہ حرکت کی کیوں کہ دریا یا نہر وغیرہ میں مفت بچہ مچھلی ڈالنا پہلے سے ہی حکومتی ذمہ داری ہے نا کہ پیسوں سے خرید کر ڈالا جائے۔ بندہ نے تقریباً مکمل سیاق و سباق اور ممکنہ حل لکھ دیے ہیں ۔ان کی روشنی میں اوپر ذکر کیے گئے مصارف یا کوئی اور رستہ (شرعی حل) جس کے ذریعہ سے میں اس ذمہ داری یا بوجھ یا گناہ سے بری الذمہ ہوسکوں؟

o

11445روپے کی جو رقم سائل نے حکومتی خزانے سے بلا استحقاق کے حاصل کی ہے،یہ خیانت ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔لہٰذا اس عمل پرتہ دل سے توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے اجتناب لازم ہے۔رہی بات اس رقم کو واپس حکومتی خزانے میں لوٹانے کی تو سوال میں موجود تفصیل کے مطابق شرعاً آپ پر یہ رقم حکومتی خزانے میں لوٹانا بھی لازم ہے۔البتہ لوٹانے کا مناسب طریقہ کیا ہونا چاہیےاس سلسلے میں جو تفصیل سوال میں درج ہے اس کے مطابق پہلی صورت زیادہ مناسب اور قابلِ عمل معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ دفتر میں یہ رقم لگادی جائے،خواہ 2018ء کے بعد یہ دفتر کام کرتا رہے یا بند ہوجائے ،آپ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

حوالہ جات

" والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم… (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99)المکتبۃ الشاملۃ) "(وأما) شرط وجوب الرد فقيام المغصوب في يد الغاصب حتى لو هلك في يده أو استهلك صورة ومعنى، أو معنى لا صورة، ينتقل الحكم من الرد إلى الضمان؛ لأن الهالك لا يحتمل الرد." (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 148) المکتبۃ الشاملۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔