021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسورتوں کےدرمیان ایک سورت چھوڑنےکاحکم
..نماز کا بیاننماز کی سنتیں،آداب اورپڑھنے کا طریقہ

سوال

جماعت کے امام جوکہ نوجوان اورمدرسہ کے طالب علم ہیں ،اکثرجماعت میں سورة” والشمس “کے بعد دوسری رکعت میں سورة” والضحی “پڑ ہتے ہیں ،جبکہ بیچ میں صرف ایک سورت چھوڑدیتے ہیں توکیاان کاایساکرنادرست ہے؟اورایک آدھ دفعہ توانہوں نے سورة ”فیل “ کےبعد دوسری رکعت میں سورة” مامون “ پڑھی ہے ۔ o

o

نمازمیں دوچھوٹی سورتوں کے درمیان قصدوارادہ کےساتھ ایسی سورت کاچھوڑدینا جوپہلی رکعت میں پڑھی جانےوالی سورت کےبرابرہویااس سے چھوٹی ہو،مکروہ ہےاوراگراس سے تین آیات بڑی ہویاہوتوچھوٹی ،لیکن بغیرقصدوارادہ کے چھوڑدی تواس صورت میں یہ عمل مکروہ نہیں،صورت مسؤلہ میں سورة ”اللیل “ سورة”الشمس “سے چھ آیات بڑی ہے،لہذااس کوچھوڑکرسورة”الضحی “پڑہنادرست ہے،البتہ سورة” الفیل “ کےبعد سورة” ماعون “قصدوارادہ کے ساتھ پڑھنامکروہ ہے،کیونکہ سورة” الماعون “ سورة ”الفیل “ سے صرف دوآیت بڑی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (ج 3 / ص 81): " وإذا جمع بين سورتين بينهما سور أو سورة واحدة في ركعة واحدة يكره وأما في ركعتين إن كان بينهما سور لا يكره وإن كان بينهما سورة واحدة قال بعضهم : يكره ، وقال بعضهم : إن كانت السورة طويلة لا يكره .هكذا في المحيط كما إذا كان بينهما سورتان قصيرتان . كذا في الخلاصة .وقال بعضهم : لا يكره أصلا." رد المحتار (ج 4 / ص 189): "والذي تحصل من مجموع كلامه وكلام القنية أن إطلاق كراهة إطالة الثانية بثلاث آيات مقيد بالسور القصيرة المتقاربة الآيات لظهور الإطالة حينئذ فيها...أما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية إطالة كثيرة فلا يكره." رد المحتار (ج 4 / ص 201) "أفاد أن التنكيس أو الفصل بالقصيرة إنما يكره إذا كان عن قصد ، فلو سهوا فلا كما في شرح المنية ." واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔