021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موسوس کی طلاق کا حکم
4319.38طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میں تقریباعرصہ 1996ء سے اس وہم میں مبتلاہوں کہ دل میں یہ وسوسہ آتاہے کہ تجھے طلاق ہے اگرفلاں کام کروں یا نہ کروں ،بارباریہ وسوسہ آتاہے حتی دن میں سینکڑوں دفعہ آتاہے حتی کہ نماز میں اورتلاوتِ قرآن کے دوران بھی کثرت سے آتاہے ،بعض دفعہ زبان سے کئی مرتبہ طلاق کا لفظ بھی ادا ہوجاتاہے ،میں بہت ہی پریشان ہوں ،مفتی صاحب شریعت کی روشنی میں مذکورہ صورت کا جواب دیں۔

o

اگر آپ واقعۃً وسوسے کے مریض ہیں اورغیر ارادی طورپر طلاق کے الفاظ آپ کے منہ سے نکلتے رہتے ہیں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی،آپ ان خیالات پر دھیان دیناچھوڑدیں اورجب کوئی ایسا خیال آنے لگے تو خیال تبدیل کرنے کی کوشش کریں اورکسی اورکام میں مصروف ہواکریں ۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار4/ 224) وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب(وکذافی البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق (5/ 51). وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 230) (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة. وفی فتاوی فریدیۃ (5/480) صورتِ مسئولہ میں طلاق نہیں ہوئی لعدم الرکن وھواللفظ ولکون الزوج مسوساً. وفیہ ایضا(5/479) جووسواس اوروہم کی بیماری میں مبتلاہواورغیر ارادی طور سے یامشکوک طورسےاس کی زبان سے طلاق کے الفاظ سرزد ہوجائیں تو اس پر طلاق عائدنہیں ہوتی .

.....

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔