021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نقد کے بجائے چیزوں کو زکوٰۃ میں دینے کاحکم
..زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

ہماری پرچون کی دوکان ہے۔ہم صاحب نصاب بھی ہیں۔سال بھی گزر چکا ہے۔پہلے ہم نقد رقم زکوٰۃ میں ادا کرتے تھے۔اب کسی نے مفتی صاحب کے حوالے سے بتایا ہے کہ نقد رقم زکوٰۃ میں دینا ضروری نہیں ہے بلکہ چیزیں بھی دے سکتے ہیں۔اس لیے ہم پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ کیا ہم پرچون کے سامان کے ذریعے زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں؟

o

نقد کے بجائے چیزوں کی شکل میں زکوٰۃ ادا کرنا بھی جائز ہے۔لہٰذا آپ پرچون کے سامان کے ذریعے بھی زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں۔لیکن واضح رہے کہ نقد کے ذریعہ زکوٰۃ ادا کرنا زیادہ بہتر ہے،تاکہ مستحق شخص اس سے اپنی ضروریات آسانی سے پوری کرسکےاور سامان کے ذریعہ زکوٰۃ کی ادائیگی ایسے بے کار سامان کے ذریعہ جائز نہیں جو فقیر کے لیے کسی کام کا نہ ہو۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 217) ولهذا ذكر الولوالجي وغيره أنه لو عال يتيما فجعل يكسوه ويطعمه وجعله من زكاة ماله فالكسوة تجوز لوجود ركنه، وهو التمليك، وأما الإطعام إن دفع الطعام إليه بيده يجوز أيضا لهذه العلة. الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 126) فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم، كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم. الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 130) (وجاز دفع القيمةفي زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غين الاعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء. الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 134) فإن قلت فما الأفضل إخراج القيمة أو عين المنصوص قلت ذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل وعليه الفتوى لأنه أدفع لحاجة الفقير. الفتاوى الهندية (1/ 192) وذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل من عين المنصوص عليه وعليه الفتوى كذا في الجوهرة النيرة.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔