021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
’’ کہ اگر تم نے میرے ساتھ ہمبستری کی تو ایسا سمجھو کہ تم نے اپنی بہن کے ساتھ کی ‘‘ کا حکم
..طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک عورت نے اپنے شوہر کو غصہ میں بولا ’’ کہ اگر تم نے میرے ساتھ ہمبستری کی تو ایسا سمجھو کہ تم نے اپنی بہن کے ساتھ کی ‘‘ یہ اس لئے بولاتھا کہ اس کا شوہر غلط راستوں پر چل رہاتھا ، اب اس عورت کے لئے کیا حکم ہے؟ جبکہ یہ پندرہ سال پہلے کا واقعہ اور اب تک دونوںایک ساتھ رہ رہے ہیں ۔

o

صورت مسئولہ میں عورت کے ان الفاظ سے دونوں کے نکاح میں کوئی فرق نہیں پڑا ،کیونکہ عورت کےالفاظ طلاق استعمال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، نیز یہ الفاظ بھی طلاق کے نہیں ہیں بلکہ گالی کے الفاظ ہیں ، لہذا اگر عورت کے اس جملہ کے علاوہ نکاح کو ختم کرنے والی کوئی اور بات نہ ہو تو دونوں کے لئے میاں بیوی کی حیثیت سےاکٹھے زندگی گذار نا جائز ہے

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 235) (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق الفتاوى الهندية (8/ 89) ( فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه ) يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔