021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پنجگانہ کو جامع مسجد بنانے کا حکم
60016 نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

قدیمی تحصیل چونیاں شہر میں ایک گلی میں جوشارع عام پر واقع نہیں ہے ، چھوٹی سی مسجد خضری پرانی غلہ کے نام سے ہے ، جس میں 90/100 آدمی نماز ادا کرسکتے ہیں ،صبح وعشاء کی نماز میں 30/40 افراد شریک ہوتے ہیں جبکہ عام نمازوں 60/70 افرادجماعت کی نماز میں شریک ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ لوگ انفرادی طور پر بھی نماز ادا کرتے رہتے ہیں ۔ اس مسجد میں قدیم زمانہ سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ عام دنوں میں تو مرد حضرات نمازیں پڑھتے ہیں اور مخصوص ایام جمعة المبارک ، عیدین ، شب برآت کی راتوں صرف عورتیں نماز پڑھتی ہیں ﴿ مرد نہیں ﴾ اوراعتکاف بھی نہیں کرتے ۔ باقی ایام مرد پنج وقتہ نمازوں کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں ۰۰۰۰ عورتیں علیحدہ جگہ نہ ہونے کی بناء پر شرکت نہیں کرتیں چند قباحتوں کی بناء پر عورتوں کومسجد آنے سے منع کردیا گیاہے۔ حسب عادت یہاں کے متعلقہ نمازی شہر کی مختلف مساجد میں نمازجمعہ ادا کرتے ہیں ۔ اس مسجد میں جمعہ کے دن جمعہ کی اذان وجماعت نہیں ہوتی ،چونکہ محلہ مختصر ہے ،دو تین جامع مسجد قریب میں موجود ہیں مستقل خطیب رکھنے کے وسائل بھی کم ہیں ۔ اب بعض دوستوں کا مشورہ ہے کہ اس مسجد میں جمعہ کی نماز شروع کی جائے ، کوئی بلا اجرت تقریبا آدھا گھنٹہ مسائل پر گفتگو کرے ، پھر عربی خطبہ پڑھ کر جماعت کرادے تاکہ مسجد کی آبادی کے خلا ء کو پر کیا جاسکے ، شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ عند اللہ ماجور ہوں ۔

o

واضح ہوکہ جمعہ کی نماز سے قبل تقریر کرنا ،وعظ کہنا یہ جمعہ کی نماز کاحصہ نہیں ہے ،اس کے بغیر جمعہ کی نماز صحیح ہوجاتی ہے ، بلکہ جہاں فتنہ کا اندیشہ ہو تقریر نہ کرنا مناسب ہے ۔ سوال کی تحریر کے مطابق مذکورہ مسجد میں جمعہ کی نماز شروع کرنا درست ہے ، کسی مستند عالم /حافظ کا تقرر ہو جو عربی میں خطبہ پڑھ کر جماعت کرادے ۔ نماز سے قبل تقریر یا مسائل بیان کرنے کے لئے کوئی مستند عالم ملے تو ٹھیک ہے ورنہ تقریر کے سلسلہ کوموقوف رکھیں ابھی شروع نہ کروائیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 137) (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى. قوله ويشترط إلخ) قال في النهر: ولها شرائط وجوبا وأداء منها: ما هو في المصلى. ومنها ما هو في غيره والفرق أن الأداء لا يصح بانتفاء شروطه ويصح بانتفاء شروط الوجوب ونظمها بعضهم فقال: وحر صحيح بالبلوغ مذكر ... مقيم وذو عقل لشرط وجوبها ومصر وسلطان ووقت وخطبة ... وإذن كذا جمع لشرط أدائها
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔