021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہمبستری سے غسل ہونے کی تفصیل
60172پاکی کے مسائلغسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان

سوال

سوال یہ ہے کہ اگر ہمبستری میں انزال سے پہلے الہ تناسل باہر نکال لے اورانزال بالکل نہ ہوتو میاں بیوی دونوں پر غسل فرض ہے یا نہیں ؟ دوسری صورت یہ ہے کہ انزال سے پہلے باہر نکال لے اور انزال باہر کرے تو بیوی پر غسل فرض ہے یا نہیں ؟

o

جب مرد الہ تناسل بیوی کی شرمگاہ میں داخل کرے ،پھر چاہے انزال سے پہلے نکال لے یا انزال کے بعد یا انزال شرمگاہ سے نکالنے کے بعد ہو تینوں صورتوں میں میاں بیوی دونوں پر غسل فرض ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 161) (و) عند (إيلاج حشفة) هي ما فوق الختان (آدمي) احتراز عن الجني يعني إذا لم تنزل وإذا لم يظهر لها في صورة الآدمي كما في البحر (أو) إيلاج (قدرها من مقطوعها) ولو لم يبق منہ قدرها. قال في الأشباه: لم يتعلق به حكم، لم أره (في أحد سبيلي آدمي) حي (يجامع مثله) سيجيء محترزه (عليهما) أي الفاعل والمفعول (لو) كان (مكلفين) ولو أحدهما مكلفا فعليه فقط دون المراهق، لكن يمنع من الصلاة حتى يغتسل، ويؤمر به ابن عشر تأديبا (وإن) وصلية (لم ينزل) منيا بالإجماع، قوله: بالإجماع) لما في الصحيحين حديث أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «إذا جلس بين شعبها الأربع ثم جهدها فقد وجب الغسل، أنزل أو لم ينزل» وأما قوله - عليه الصلاة والسلام - «إنما الماء من الماء» فمنسوخ بالإجماع،
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔