021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فلمی کاروبار کے لئے مسجد کی دکان کرایہ پر دینے کاحکم
60211اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نےایک دکان بازار میں کرایہ پر لی ہے ،جو کہ اب مسجد کی ملکیت میں ہے ، میرا کاروبار گانے فلمیں اور ڈرامے بھر کر دینا ہے ، میرا سوال یہ ہے اس کام کے لئے یہ دکان کرایہ پر رکھ سکتا ہوں یانہیں ؟ اس کی کمائی سے مسجد کو کرایہ دے سکتا ہوں یا نہیں ؟

o

گانے سننا سنانا ، اور فلمی ڈرامے بنانا ، اس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،اس لئے گانے اور ڈراموں کو مختلف کیسٹ ،موبائل اور دیگر آلات میں بھرکرفروخت کرنا ، ناجائز اور حرام ہے ،اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدن بھی حرام ہے ، لہذا آپ پر لازم ہے کہ فوری طور پر اس کاروبارکو چھوڑ کر کوئی حلال ذریعہ آمدن اختیا کریں ۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجة للقزويني (3/ 13) عن أبى أمامة ، قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع المغنيات وعن شرائهن وعن كسبهن وعن أكل أثمانهن سنن الترمذي (2/ 375) عن أبى أمامة ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : (لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن . ولا خير في تجارة فيهن . وثمنهن حرام . في مثل هذا أنزلت هذه الآية (ومن الناس من يشترى لهوا الحديث ليضل عن سبيل الله) إلى آخر الآية) ، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 424) (قوله وفروعه كثيرة) منها كما في المجتبى ما تأخذه المغنية على الغناء والنائحة والواشرة والمتوسطة لعقد النكاح والمصلح بين المتشاحنين وثمن الخمر والسكر وعسب التيس وثمن جميع جلود الميتة والسباع قبل الدباغ ومهر البغي وأجر الحجام بشرط اهـ. لكن في المواهب: ويحرم على المغني والنائحة والقوال أخذ المال المشروط دون غيره اهـ. وكذا صاحب الطبل والمزمار كما قدمناه عن الهندية.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔