021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستعفی اساتذہ کا چھٹیوں کی تنخواہ لینے کا حکم(مدارس دینیہ میں رمضان کی تنخواہ کاحکم)
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین متین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے مدارس میں یکم رجب یا پانچ رجب کو چھٹیاں ہوتی ہیں، پھر بعض اساتذہ کرام اپنے مرضی سے پچیس دن یا ایک مہینہ کے نحو وصرف کے دورے پڑھاتے ہیں ۔ لیکن مدرسے کے اساتذہ کرام کو رجب ،شعبان اور رمضان کے تنخواہیں ملتی ہیں ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ ایک استاد یکم رجب یا پانچ رجب تک یعنی سال کے اختتامی پروگرام تک موجود ہے۔ لیکن آئندہ سال استعفی دیتا ہے لیکن باقی اساتذہ کرام جو آئندہ سال بھی اسی مدرسے میں پڑھائیں گے تو انکو رجب ، شعبان اور رمضان کی تنخواہیں ملتی ہیں لیکن جس استاد نے آئندہ سال کےلیے استعفٰی دیا ہے تو اس کو رجب ، شعبان اور رمضان کی تنخواہیں نہیں ملتی ہیں،تو آیا یہ استاد ان تین تنخواہوں کا مستحق ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ کو مدلل جوابات سے مزین فرماکر درج ذیل پتہ پر روانہ کرکے ممنون ومشکور فرمائیں۔اللہ تعالٰی آپ کو مزید عزت و برکت عطا فرمائے۔ آمین

o

چھٹیوں کی تنخواہ ،عمل کےدنوں کے تابع ہوتی ہیں اس لیےعام حالات میں چھٹیوں کی تنخواہ لینا جائز ہے۔ جہاں تک آئندہ سال سے مدرسہ چھوڑ جانے والے اساتذہ کی چھٹیوں کی تنخواہ کا حکم ہےتو اس کا اصل دارومدار استاذ کے ساتھ ہوئے معاہدے پر ہے۔ اگر مدرس رکھتے وقت مدرس کے ساتھ چھٹیوں کی تنخواہ کے متعلق کچھ طے کیا گیا تھا،تب تواسی طرح عمل کیا جائے گا اور اگر اس بارے میں پہلے سے کچھ طے نہ کیا گیا ہومطلب یہ کہ معاہدے میں اس حوالے سےکوئی وضاحت نہ ہو تو ایسے میں مدارس کےعام عرف و اصول کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ ہمارے علم کی حد تک وفاق المدارس کا اصول یہ ہے کہ جو مدرس (استاد) رجب یا شعبان میں آئندہ سال نہ آنے کی اطلاع دے کر اپنا استعفی پیش کردے، اس کو رمضان تک تما م مہینوں کی تنخواہ دی جائی گی۔ اس اصول کی رو سے بظاہر مدارس کا عام عرف یہی ہے کہ ایسے مدرسین کو بھی تعطیلات کی دی جاتی ہے۔

حوالہ جات

"منها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم." الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 81) " (المادة 43) : المعروف عرفا كالمشروط شرطا۔" مجلة الأحكام العدلية (ص: 21) "والأجير الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل." مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 391) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔