021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت کے کاروبار میں عامل شریک کو کس قسم کے تصرفات کا اختیار حاصل ہے؟
60303شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

شرکاء میں سے ایک عامل شریک کا کمپنی سے دوسرے شرکاء کی اجازت کے بغیر کسی کی مدد کرنا، کسی کو کچھ رقم وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

o

عامل شریک مشترکہ کاروبار میں صرف وہ تصرفات کرسکتا ہے جو کاروبار کے لیے فائدہ مند ہوں۔ دوسرے شرکاء کی اجازت کے بغیر مشترکہ مال میں وہ ایسا کوئی تصرف نہیں کرسکتا جس سے کاروبار کو کوئی فائدہ نہ ہو، لہٰذا شرکاء کی اجازت کے بغیر وہ مشترکہ مال میں سے کسی کو زیادہ مدت کے لیے یا بڑی رقم بطورِ قرض نہیں دے سکتا، اسی طرح کسی کو غیر معمولی ہدایا، اور صدقہ وغیرہ بھی نہیں دے سکتا۔ اگر شرکت کے کاروبار میں تھوڑی بہت رقم مختصر مدت کے لیے کسی کو بطورِ قرض دینے کا عرف ہو اور دیگر شرکاء نے اس سے منع بھی نہ کیا ہو تو عامل شریک کو اس طرح قرض دینے کی اجازت ہوگی، اور اگر اس کا عرف نہ ہو تو پھر عامل شریک کے لیے دیگر شرکاء کی صریح اجازت کے بغیر کسی کو قرض دینے کی مطلقاً گنجائش نہیں ہوگی۔ اسی طرح کاروباری ضیافت کرنے (مثلاً گاہک کو کھانا کھلانا یا چائے پلانا) یا ایسے چھوٹے موٹے ہدایا دینے کی بھی گنجائش ہے جو عام طور سے اس جیسے کاروبار میں دئیے جاتے ہوں اور جن کے دینے کی شرکاء کی طرف سے عرفاً اجازت ہوتی ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (4/318) : ( ولا يجوز لهما ) في عنان ومفاوضة ( تزويج العبد ولا الإعتاق ) لو على مال ( و ) لا ( الهبة ) أي لثوب ونحوه فلم يجز في حصة شريكه وجاز في نحو لحم وخبز وفاكهة ( و ) لا ( القرض ) إلا بإذن شريكه إذنا صريحا فيه سراج وفيه إذا قال له اعمل برأيك فله كل التجارة إلا القرض والهبة ( وكذا كل ما كان إتلافا للمال أو ) كان ( تمليكا ) للمال ( بغير عوض ) لأن الشركة وضعت للاسترباح وتوابعه وما ليس كذلك لا ينتظمه عقدها. دُرر الحکام شرح مجلة الأحکام العدلیة (3/431): لیس لأحد الشریکین عناناً أومفاوضةً إتلاف المال العائد للشرکة، ولیس له تملیکه بلا عوض کهبته والتصدق به أووقفه علی الأمور الخیریة أوبناء مسجد به بدون إذن صریح من شریکه، ولیس له عمل ذلك بمجرد قول شریکه له "اعمل برأیك"؛ لأن الشرکة إنما وضعت للربح والفائدة، وهذه الأشیاء التی لیس منها فائدة وتوجب الضرر المحض فی الدنیا لاتدخل تحت عقد الشرکة (رد المحتار بزیادة)….. لیس له بدون إذن صریح من شریکه وبمجرد قول شریکه له "اعمل برأیك" أن یقرض من مال الشرکة لآخر ولا أن یهدی من أموالها شیئاً لآخر غیر معتاد هدیته کالثیاب، ولکن له أن یهدی الأشیاء المعتاد إهداءها کالخبز واللحم مثلاً، سواء کانت الشرکة مفاوضةً أوعناناً. (تعلیقات ابن عابدین علی البحر) المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (5/ 563): ولیس لأحدھما أن یقرض شیئاً من مال المفاوضة فی ظاھر الروایة، قالوا: وينبغي أن يكون له الإقراض بما لا خطر للناس فيه. وذکر الحسن: أن علی قول أبی حنیفة رضی اللہ تعالی عنہ لأحد المتفاوضین أن یقرض مال المفاوضة من رجل یأخذ منہ سفتجة لہ. الفتاوى الهندية (2/ 313): وليس لأحد المتفاوضين أن يقرض في ظاهر الرواية وهو الصحيح كذا في الذخيرة إلا أن يأذن له إذناً مصرحاً أن يقرض ولم يدخل تحت قوله اعمل برأيك كذا في السراج الوهاج، ولو أقرض بغير إذنه ضمن نصفه ولا تفسد المفاوضة هكذا في محيط السرخسي، وقالوا: ينبغي أن يكون له الإقراض بما لا خطر للناس فيه كذا في المحيط. أیضاً حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار (2/520) المعاییر الشرعیة (329): 1/3/1/3: لیس للشریك التصرف بما لاتعود منفعته علی الشرکة أوبما فیه ضرر مثل الهبة أوالإقراض إلا بإذن الشرکاء، أوبالمبالغ الیسیرة وللمدة القصیرة حسب العرف.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔