021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت میں نفع سے پہلے رب المال کی طرف سے نفع کا مطالبہ کرنا
..مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ہم دو ساتھیوں کے مابین اس طرح عقد ہوا کہ میں نے اپنے دوسرے ساتھی کو کچھ پیسے مضاربت کے لیے دیے اور کہا کہ نفع نصف نصف لیں گے۔اس نے مال خرید لیا ابھی بکا نہیں ہے،مگر ہمیں یقینی معلوم ہے کہ یہ کتنے کا بکے گا۔مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ مجھے میرے نفع میں سے کچھ پیسے دے دو،وہ کہ رہا ہے کہ ابھی کیسے دوں ؟ ابھی تو مال بکا نہیں ہے۔میں نے اس سے کہا کہ جب بک جائے تم اس میں سے یہ واپس لے لینا ،وہ مان نہیں رہا ہے،اس حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟

o

مذکورہ صورت میں آپ کا اپنے ساتھی سے نفع کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔عقد مضاربت میں نفع حاصل ہونے سے پہلے جانبین میں سے کسی بھی فریق کے لیے نفع کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔جب یہ مال بک جائے اس پر جو نفع حاصل ہو گا اس وقت طے شدہ حصہ کے بقدر مطالبہ جائز ہوگا،البتہ اگر مضارب اپنی طرف سے آپ کو قرض رقم دے کر بعد میں نفع سے اس کا حساب کرنے پر راضی ہوجائے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 270) قوله (فإن ربح أخذ المالك ما أنفق من رأس المال) أي ما أنفقه المضارب فإذا استوفى رأس ماله وفضل شيء اقتسماه لأن ما أنفقه يجعل كالهالك وأشار المصنف إلى أن للمضارب أن ينفق على نفسه من مال المضاربة في السفر قبل الربح وإلى أنه لو لم يظهر ربح لا شيء على المضارب قيد بالنفقة لأنه لو كان في المال دين غيرها قدم إيفاؤه على رأس المال ولو أنفق المضارب من ماله ثم هلك مال المضاربة لم يرجع على رب المال بشيء كما قدمناه.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔