021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی صورت میں حق مہر کاحکم
..نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میرے شوہر نے مجھے ایک لاکھ روپے زیورات کی صورت میں حق مہر دیا تھا پھر فورا مجھ سے لے لیا کیا طلاق کی صورت میں مہر کا حقدار ہوں یا نہیں ؟

o

مہر عورت کاحق ہے اس میں شوہر کوبلا اجازت تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں طلاق ہو یانہ ہو دونوں صورتوں میں شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ مہر کی رقم بیوی کےحوالے کرے ،

حوالہ جات

) ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة (قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية: قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. اه
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔