021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مال پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کرنا
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ایک تاجر فون پر ٹرکوں کے حساب سے بہت بڑی مقدار میں مال خریدتا ہے اور اس پر قبضہ کیے بغیر آگے بھیج دیتا ہے، مثلا: ایک آدمی (عمرو) دوسرے شخص (زید) کو فون کرتا ہے کہ میں آپ کے لیے اتنے ٹرک مال کے خریدتا ہوں، آپ مجھے پیسے بھیجو، دوسرا شخص پیسے بھیج دیتا ہے، پھر یہ پہلاشخص اگلے تاجر مثلا؛ بکرکو فون کرتا ہے کہ آپ اتنا مال مجھے فروخت کر دو اور وہ پہلے شخص زید کی طرف سے دی گئی رقم اس کو بھیج دیتا ہے۔ پھر یہ شخص(عمرو) اس مال پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کر دیتا ہے یا اسی تاجر کو(جس سے مال خریدا گیا تھا) کہہ دیتا ہے کہ اس مال کا اچھا ریٹ لگے تو اس کو آگے فروخت کر دینا، اسی طرح ان کا کاروبار چلتا رہتا ہے کہ پہلا شخص كچھ عرصہ كے بعد رقم بھیجتا ہے اور دوسرا شخص مال خريد كر اس پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کرتا ہے اور نفع دونوں میں تقسیم ہوتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا پہلے شخص کے لیے نفع لینا جائز ہے؟

o

خریدی گئی چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں،اس طرح کی خریدوفروخت جائز نہیں ،ایسی صورت میں خریدوفروخت کے معاملے کوفسخ (ختم کرنا) اور اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کے لیے اس سے بچنا لازم ہے، نيز حاصل شدہ نفع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ پہلاشخص یعنی عمرو مال خرید کر اس پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کرتا رہا ہے، اس لیے اس مال کو فروخت کر کے حاصل کیا گیا نفع فریقین کے لیے حلال نہیں ہے، لہذا ابھی تک جو نفع حاصل کیا گیا اندازہ لگا کر اس کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے اور آئندہ کے لیے اس طرح کی خریدفروخت سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔نفع كے علاوہ اصل رقم مالک(زيد) کی ہے اور درمیانی شخص یعنی عمرو کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ عمرو مال خرید کر اس پر خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعہ قبضہ کرنے کے بعد آگے فروخت کرے تو یہ درست ہے اور اس صورت میں حاصل شدہ نفع بھی حلال ہو گا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (5/ 73) ایچ ایم سعید: وقيد بقوله وقبضه لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز ولو من بائعه كما سيأتي في بابه تكملة عمدة الرعاية حاشية شرح الوقاية(ج:3ص:52) رجل اشترى بيعا فاسدا بعشرة فباعه بعشرين فالعشرة هو هو ماله الذي كان أعطاه البائع والعشرة الإخر ربح حصل من ملك فاسد وهو المبيع بيعا فاسدا فلا يحل عليه فليتصدق به لفراغ الذمة ولا يرد البائع؛ لإن حقه قد سقط إذا أخذ البدل وملكه ضرورة۔
..

n

مجیب

محمد نعمان خالد صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔