| 60776 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب نے تقریباً ساری عمر بینک کی جاب میں گزاری ہے ، کل ملا کر تقریباً 50 سال کا عرصہ انہوں نے بینک میں گزارا،جس کے دوران 15سال ملازمت کا دور Foreign Exchange /Treasury Department میں گزارا اور بقیہ تقریباً 35سال کا عرصہ Foreign Trade/Import Export میں گزارا ۔ Import Export کے Department میں10سال ڈیوٹی کے دوران تقریباً 2 یا 5 ٹرانزیکشنز ایسی ہو جاتی تھیں جس میں سود کا عنصر شامل ہو جاتا تھا، بینک کی جاب کے دوران ایک مرتبہ انہوں نےEmployee House Loan تقریباً 5لاکھ لیا، جس سے ایک گھر خریدا گیا، اسی گھر میں ہم ابھی بھی رہتے ہیں۔ پھر ایک اورمرتبہ 4 Employee Loan لاکھ لیا گیا، جس سے انہوں نے ایک اور فلور تعمیر کرایا، یہ سارا Loan انکی تنخواہ سے کٹتا رہا ۔ اسی دوران 2 اور پلاٹس خریدے گئے، جو بینک کی اپنی سوسائٹی تھی (Bank AlFalah Society) جس کی قیمت بھی انہی ذرائع سے ادا کی گئی۔ بینک کی ملازمت کے دوران ہی انہوں نے Defense Saving Certificates خریدے، جن کی مالیت تقریباً 27لاکھ روپے تھی ، جس کی مالیت تقریباً 10 سال کے بعد 1 کروڑ 50 لاکھ ہو گئی۔ اسکے بعد انہوں نے یہ پیسے National Saving Center میں انویسٹ کر دئیے۔پھر ریٹائرڈمنٹ کے وقت ان کو تقریباً 32 لاکھ روپیہ Provident Fund کا ملا، جس کو بھی National Saving Center انویسٹ کیا گیا ، کچھ عرصے بعد میری بڑی بہن کو 32 لاکھ روپے کی مالیت کا ایک فلیٹ دلایا ،جس میں وہ ابھی بھی رہتی ہے، اس فلیٹ کی رقم بھی انہی ذرائع سے ادا کی گئی ۔ اس کے بعد ہمارے والد صاحب کچھ عرصے کے لئے قطر چلے گئے Doha Bank میں ملازمت کےسلسلے میں۔ وہاں International Trade Department میں کام کیا اور اپنی تنخواہ سے 10 لاکھ روپیہ بچا کر لائے۔پھر کچھ عرصہ پہلے ہم سارے بہن بھائیوں نے کوشش کی کہ کسی طرح ہمارے والد صاحب سودی معاملات سے نکل جائیں اور تقریباً 1کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم میزان بینک میں انویسٹ کی گئی، لیکن ابھی بھی National Saving Center میں 70 لاکھ روپے کی رقم موجود ہے۔ کچھ عرصے بعد جس گھر میں ہم رہتے ہیں، اس گھر میں تقریباً 37 لاکھ روپے سے Renovation کا کام کرایا گیا ۔
اسی طرح ایک اور فلیٹ جس کی مالیت تقریباً 90 لاکھ روپیہ ہے، وہ بھی انہی ذرائع سے خریدا گیا۔ پھر کچھ عرصے بعد تقریباً 10 لاکھ روپے کی رقم ہماری پھپھو کو دی گئی ۔ ابھی کچھ عرصے سے ہم بہن بھائیوں نے کوشش کر کےانہیں National Savings کےتمام پیسے نکالنے پر آمادہ کرلیا ہے، جس پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کا جرمانہ بھی لگا ، جس پر وہ توبہ بھی کرتے ہیں ۔ ابھی ان تمام ذرائع کے بعد ہرچیز کی کل مالیت کچھ اس طرح سے ہے :
- ہمارے گھر کی موجودہ مالیت 3.5 کروڑ
- بڑی بہن کے فلیٹ کی موجودہ مالیت 65 لاکھ
- Bank Alfalah Society کے پلاٹ کی موجودہ مالیت 30 لاکھ
- ایک اور فلیٹ زیر تعمیر بکنگ ویلیو 90 لاکھ –
- میزان بینک کیش1 کروڑ 20 لاکھ۔
- National Savings Center70 لاکھ نقد، جس کو نکلوانے کا کام جاری ہے ۔
اب ہمارا سوال یہ ہے:
کیا ان تمام ذرائع سے حاصل کی گئی پراپرٹی اور نقدی ہم بہن بھائیوں میں میراث کے طور پر تقسیم ہو سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق حرام رقم کو صدقہ کرنے کے بعد بقیہ پراپرٹی اور نقدی ورثاء شرعی حصوں کے مطابق آپس میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (5/ 99) ايچ ايم سعيد:
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما والأحسن ديانة التنزه عنه، ففي الذخيرة سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة ، وفي الخانية امرأة زوجها في أرض الجور إن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله الإثم على الزوج ا هـ
قوله ( وسنحققه ثمة ) أي في كتاب الحظر والإباحة : قال هناك بعد ذكره ما هنا لكن في المجتبى مات وكسبه حرام فالميراث حلال ثم رمز وقال لا نأخذ بهذه الرواية وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه ا هـ ح ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل۔
حاشية ابن عابدين (6/ 386) ايچ ايم سعيد:
قوله ( إلا إذا علم ربه ) أي رب المال فيجب على الوارث رده على صاحبه قوله ( وهو حرام مطلقا على الورثة ) أي سواء علموا أربابه أو لا فإن علموا أربابه ردوه عليهم وإلا تصدقوا به كما قدمناه آنفا عن الزيلعي۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشید، کراچی
18 محرم الحرام 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


