03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مخلوط آمدنی سے خریدی گئی پراپرٹی کا حکم
60775سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میرے والد صاحب نے تقریباً ساری عمر بینک کی جاب میں گزاری ہے ، کل ملا کر تقریباً 50 سال کا عرصہ انہوں نے بینک میں گزارا،جس کے دوران 15سال ملازمت کا دور Foreign Exchange /Treasury Department  میں گزارا اور بقیہ تقریباً 35سال کا عرصہ Foreign Trade/Import Export میں گزارا ۔ Import Export کے Department میں10سال ڈیوٹی کے دوران  تقریباً 2 یا 5 ٹرانزیکشنز ایسی ہو جاتی تھیں جس میں سود کا عنصر شامل ہو جاتا تھا، بینک کی جاب کے دوران  ایک مرتبہ انہوں نےEmployee House Loan تقریباً 5لاکھ لیا، جس سے ایک گھر خریدا گیا، اسی گھر میں ہم ابھی بھی رہتے ہیں۔ پھر ایک اورمرتبہ 4 Employee Loan لاکھ لیا گیا، جس سے انہوں نے ایک اور فلور تعمیر کرایا، یہ سارا Loan انکی تنخواہ سے کٹتا رہا ۔ اسی دوران 2 اور پلاٹس خریدے گئے، جو بینک کی اپنی سوسائٹی تھی (Bank AlFalah Society) جس کی قیمت بھی انہی ذرائع سے ادا کی گئی۔ بینک کی  ملازمت کے دوران ہی انہوں نے Defense Saving Certificates خریدے، جن کی مالیت تقریباً 27لاکھ روپے تھی ، جس کی مالیت تقریباً 10 سال کے بعد 1 کروڑ 50 لاکھ ہو گئی۔ اسکے بعد انہوں نے یہ پیسے National Saving Center میں انویسٹ کر دئیے۔پھر ریٹائرڈمنٹ کے وقت ان کو تقریباً 32 لاکھ روپیہ Provident Fund کا ملا، جس کو بھی National Saving Center انویسٹ کیا گیا ،  کچھ عرصے بعد میری بڑی بہن کو 32 لاکھ روپے کی  مالیت کا ایک فلیٹ دلایا ،جس میں وہ ابھی بھی رہتی ہے، اس فلیٹ کی رقم بھی انہی ذرائع سے ادا کی گئی ۔ اس کے بعد ہمارے والد صاحب کچھ عرصے کے لئے قطر چلے گئے Doha Bank میں ملازمت کےسلسلے میں۔ وہاں International Trade Department میں کام کیا اور اپنی تنخواہ سے 10 لاکھ روپیہ بچا کر لائے۔پھر کچھ عرصہ پہلے ہم سارے بہن بھائیوں نے کوشش کی کہ کسی طرح ہمارے والد صاحب سودی معاملات سے نکل جائیں  اور تقریباً 1کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم میزان بینک میں انویسٹ کی گئی، لیکن  ابھی بھی National Saving Center میں 70 لاکھ روپے کی رقم موجود ہے۔ کچھ عرصے بعد جس گھر میں ہم رہتے ہیں، اس گھر میں تقریباً 37 لاکھ روپے سے Renovation کا کام کرایا گیا ۔

اسی طرح ایک اور فلیٹ جس کی مالیت تقریباً 90 لاکھ روپیہ ہے،  وہ بھی انہی ذرائع سے خریدا گیا۔ پھر کچھ عرصے بعد تقریباً 10 لاکھ روپے کی رقم ہماری پھپھو کو دی گئی ۔ ابھی کچھ عرصے سے ہم بہن بھائیوں نے کوشش کر کےانہیں National Savings کےتمام پیسے نکالنے پر آمادہ کرلیا ہے،  جس پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کا جرمانہ بھی لگا ، جس پر وہ توبہ بھی کرتے ہیں ۔ ابھی ان تمام ذرائع کے بعد ہرچیز کی کل مالیت کچھ اس طرح سے ہے :

  • ہمارے گھر کی موجودہ مالیت 3.5 کروڑ
  • بڑی بہن کے فلیٹ کی موجودہ مالیت 65 لاکھ
  • Bank Alfalah Society کے پلاٹ کی موجودہ مالیت 30 لاکھ
  • ایک اور فلیٹ زیر تعمیر بکنگ ویلیو 90  لاکھ –
  • میزان بینک کیش1 کروڑ 20 لاکھ۔
  • National Savings Center70 لاکھ نقد، جس کو نکلوانے کا کام جاری ہے ۔

اب ہمارا سوال  یہ ہے:

ان تمام نقدی  اور پراپرٹی میں کتنا حصہ حرام ہے اور کتنا حلال؟ اور ہمیں اب بحیثیت اولاد کیا کرنا چا ہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ پراپرٹی کی خریداری میں تین قسم کی رقوم شامل ہوئی ہیں، جن کا حکم درج ذیل ہے:

  1. آپ کے والد صاحب نے 15 سال جو بینک کے Foreign Exchange /Treasury Department  میں ملازمت کی ہے، ات نے عرصہ کی تنخواہ اور اس پرملنے والی پراویڈنٹ فنڈ کی رقم حلال نہیں، کیونکہ اس شعبے میں عام طور پر سودی  معاملات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 35 سال جو Foreign Trade/Import Export  اور  International Trade Department میں ملازمت کی ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اس شعبے میں چونکہ سودی اور غیر سودی دونوں قسم کے معاملات ہوتے ہیں، لہذا اس ملازمت کے دوران جتنا وقت انہوں نے سودی معاملات میں صرف کیا ہے اتنے وقت کی تنخواہ ان کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اتنے وقت (جو سودی کاموں میں صرف ہوا) کے تناسب سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد پراویڈنٹ فنڈ کے طور پر ملنے والی رقم بھی حلال نہیں۔
  2. آپ کے والد صاحب نے بینک سے جو قرض لیا ہے اس کا استعمال ان کے لیے جائز اور حلال ہے، کیونکہ بینک کی اکثر رقوم حلال ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ آپ کے والد صاحب کو بینک سے سود پر قرض لینے کی وجہ سے سودی معاملہ کرنے اور سود ادا کرنے کا سنگین گناہ ہوا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرنا  اور آئندہ کے لیے اجتناب لازم ہے۔
  3. نیشنل سیونگ سینٹر(National Saving Center) اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ (Defense Saving Certificates) کے ذریعہ جو نفع حاصل کیا گیا  وہ سود اور حرام ہے۔  

مذکورہ رقوم سےخریدی گئی پراپرٹی كی تین صورتیں ہیں، جن کا حکم الگ الگ ہے:

  • ہلی صورت: حلال رقم جیسے بینک سے قرض لے کر خریدی گئی پراپرٹی کا استعمال جائز ہے۔

دوسری صورت: خالص حرام رقم جیسےنیشنل سیونگ سینٹر اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ سے  حاصل ہونے والے نفع سے خریدی گئی پراپرٹی کا حکم یہ ہے کہ اس مکمل پراپرٹی کو  یا  اس کی موجودہ قیمت لگوا کر اتنی رقم بلا نیتِ ثواب  صدقہ کرنا ضروری ہے، اس سے پہلے اس پراپرٹی کا استعمال بالکل جائز نہیں۔

تیسری صورت: پراپرٹی خریدتے وقت حلال اور حرام رقم کے مجموعے سے قیمت ادا کی گئی، خواہ  اس میں حرام رقم کم  شامل کی گئی ہو یا زیادہ ۔  اس کا حکم یہ ہے کہ حلال رقم کے بقدر پراپرٹی کا استعمال جائز اور حرام رقم کے بقدر پراپرٹی کا استعمال اور اس سے نفع اٹھانا ناجائزہے۔ لہذا اس  پراپرٹی کی موجودہ قیمت لگوا کر حرام رقم کے تناسب سے رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دی جائے تو اس کے بعد آپ حضرات کے لیے اس مکمل  پراپرٹی کو استعمال کرنا جائز ہو جائے گا۔ اگرحرام رقم کا تناسب معلوم نہ ہو تو اندازہ سے اتنی رقم صدقہ کی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (7/ 154):

 إذا غصب ألفا فاشترى جارية فباعها بألفين ثم اشترى بالألفين جارية فباعها بثلاثة آلاف أنه يتصدق بجميع الربح في قولهما وعند أبي يوسف رحمه الله لا يلزمه التصدق بشيء لأنه ربح مضمون مملوك لأنه عند أداء الضمان يملكه مستندا إلى وقت الغصب ومجرد الضمان يكفي للطيب فكيف إذا اجتمع الضمان والملك وهما يقولان الطيب كما لا يثبت بدون الضمان لا يثبت بدون الملك من طريق الأولى وفي هذا الملك شبهة العدم على ما بينا فيما تقدم فلا يفيد الطيب۔

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (7/ 309)

والمال نوعان: نوع يتعين بالتعيين كالعروض، ونوع لا يتعين بالتعيين كالأثمان وكان الحنث لعدم الملك يعمل في النوعين جميعاً في العروض والأثمان حتى لا يطيب الربح كالمودع يتصرف في الوديعة ويربح  لا يطيب له الربح سواء كانت الوديعة عرضاً أو ثمناً؛ لأن الخبث

لعدم الملك غير أن الثابت في العرض حقيقة الخبث؛ لأن العقد يتعلق بمال غيره وقت المباشرة وإن كان في الثاني يصير مملوكاً للغاصب، والثابت في الأثمان شبهة الخبث؛ لأن العقد لم يتعلق بها استحقاقاً وإنما يتعلق به إشارة وهي ملك، فصار ملك الغير وسيلة إلى الربح من وجه فيتمكن فيه شبهة الخبث فيجب التصدق. وإن كان الخبث في محل مملوك له لفساد سببه يعمل في العروض حتى لا يطيب له ما ربح في العروض، ولا يعمل في النقود حتى يطيب ما ربح فيها عند فساد السبب۔

فقہ البیوع لشیخ الاسلام محمد تقی العثمانی(ج:2،ص:1016) :

وذكر كثير من المتأخرين أن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس، قال ابن عابدين رحمه الله تعالى:"وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها۔"وقد أفتى به جماعتنا۔ فلوأخذ قول الكرخي رحمه  الله تعالى علي ما فسّرناه، فرجحانه مسلّم۔أما إذا أخذ مبيحا لما اشتري بالنقود المغصوبة وربحه،  فالذي يميل إليه القلب أن ما رجّحه صاحب الهداية والكاساني بناء علي قول الإمام أبي حنيفة ومحمد رحمهمالله تعالي، هو أولى بالترجيح، وهو الاحتياط۔

فقہ البیوع لشیخ الاسلام محمد تقی العثمانی(ج:2،ص:1032) :

أما إذا خلطه بمال نفسه، فالمراد أنه لا يحل له الانتفاع بالحصة المغصوبة۔ أمام الانتفاع بحصة ماله فيجوز، سواء كان قليلا أوكثيرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أما إذا كان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمييز أحدهما بالآخر، فإنه لاعبرة بالغلبة في هذه الحالة في مذهب الحنفية، بل يحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء أكان الحلال قليلا أم كثيرا۔

  محمد نعمان خالد

 دارالافتاء جامعة الرشید، کراچی

18 محرم الحرام 1439ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب