021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق نامہ لکھ کر چھپالینے کا حکم
..طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک شخص نے اپنے سالے کو فون کرکے کہا کہ میں نے تمہاری بہن کو تین طلاقیں دے دیں ہیں ،تم اس کو لیکر جاو ، پھر شوہر کے بھائی ع نے مجھے فون کرکے کہا کہ زوج نے اپنے گھر والی کو طلاق دے دی ہے ، جب میں نے پوچھا تین طلاقیں دی ہیں یا ایک ؟ تو جواب میں ع نے کہا ایک ہوگی ، باقی بھی ہوجائیں گی ۔ یا یوں کہا کہ ہوگئی ہیں ، اس طرح کے دوالفاظ بولے ہیں ، پھر جب گاؤں آئے ہیں توزوج اور اس کے بھائی ع نے کہا کہ طلاق ایک دی ہے ، اور ان کے گھر والوں نے بولا کہ طلاق ایک ہوئی ہے ، ہم نے ایک طلاق سنی ہے ۔ پھر دوچار دن بعد زوج کے کپڑوں سے ایک پرچی ملی ہے ، جس پر اس طرح کے الفاظ تھے ۔ تین طلاق مجھ سے فارغ ہے ،۔۔۔۔۔( نام زوجہ)مجھ سے فارغ ہے ۔ ظفر کی بیٹی مجھ سے فارغ ہے ،، اس کے بعد زوج نے اپنی گھر والی سے کہا کہ میں نے ایک طلاق دی ہے ، اس سے میں نے رجوع کرلیا ہے ، لہذا آپ گھر آجائیں ،تو گھر والی نے بولا کہ تیرے جیب میں جوپرچی تھا ، اس کا کیا بنے گا توآصف نے جواب میں کہا کہ اس کاکسی کو نہیں بتانا ، بعد میں حلالہ کرالیں گے ،اس پر اس کی گھر والی نے انکار کردیا کہ کسی صورت حلالہ نہیں کراؤں گی ۔ اب صورت مسئلہ میں تین طلاقیں ہوگئی یا نہیں ؟ واپسی جانے کی کیا صورت ہے؟

o

اگر سوال میں لکھی ہوئی تمام باتیں درست ہیں تومذکورہ خاتون پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں ، لہذا اب دونوں کا آپس میاں بیوی کی حثیت سے اکٹھے زندگی گذار ناناجائز اور حرام ہے ، حلالہ شرعیہ کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 247) حديث رجاله ثقات وعن محمود بن لبيد قل : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : " أيلعب بكتاب الله عز و جل وأنا بين أظهركم ؟ " حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ . رواه النسائي الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔