| 60882 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں پاکستان نیوی میں ملازمت کرتا ہوں، ہماری تنخواہ سے بغیر ذاتی اختیار کے کچھ رقم کی کٹوتی ہوتی ہے، جو کہ جمع ہوتی رہتی ہے اور ملازمت مکمل ہونے پر یکمشت دی جاتی ہے اور اس رقم پر ہمیں سالانہ نفع بھی دیا جاتا ہے، جسے ہم DSOPفنڈ کانام دیتے ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی اختیار سے مستقبل کی بچت کی خاطر زائد رقم بھی کٹواتے ہیں، اس پر بھی سالانہ نفع دیا جاتا ہے، نیز مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اختیار بھی ہوتا ہے کہ کٹوتی جاری رہے، مگر ملنے والے نفع کو رکوا دیا جائے، لیکن نفع بند کروانے کی صورت میں اچھی خاصی رقم سے محرومی ہوجاتی ہے۔ دوسری صورت کے بارے میں بعض مفتیان کرام جواز کا جواب دیتے ہیں اور بعض شبہ سود کا۔ برائے مہربانی درج ذیل سوال کش جواب دے کر ممنون فرمائیں:
اگر پہلی صورت کا نفع جائز اور دوسری صورت کا ناجائز ہو یا نفع نہ لینے میں بہتری ہو تو مسئلہ یہ آتا ہے کہ اگر کوئی شخص غیر اختیاری کٹوتی کے ساتھ ساتھ بچت کی خاطر اختیاری کٹوتی بھی کرائے تو دوسری صورت کے نفع کے عدمِ جواز کی وجہ سے پہلی صورت کا جائز نفع بھی بند ہو جائے گا اور اس میں ہمارا نقصان ہے، ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں اختیاری کٹوتی کروانا جائز ہے، البتہ اس پر جو اضافی رقم حاصل ہو اس کو جواب نمبر(1)میں درج شدہ تفصیل کے مطابق صدقہ کرنا بہتر ہے، لازم نہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمدنعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشید، کراچی
27 محرم الحرام 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


