| 60881 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
1. اختیاری کٹوتی میں شبہ سود کا کیا مطلب ہے؟
2. اگر کوئی شبہ سود والی صورت اختیار کرے لے تو کیا وہ گناہ گار ہو گا؟
3. کیا ایسا شخص قابلِ ملامت ہے؟
4. نفع لینے کی صورت میں کیا اس رقم کو صدقہ کرنا ضروری ہے، ایسے صدقہ کی رقم کس کو دی جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1 تا 4۔ اختياری کٹوتی کی صورت میں بھی اضافی رقم میں شرعاً سود یا شبہ سود نہیں پایا جاتا، صرف تقوی اور احتیاط کی بناء پر صدقہ کا حکم دیا گیاہے، لہذا اگر کوئی ملازم ضرورت مند ہوتو وہ یہ رقم خود بھی استعمال کر سکتا ہے۔ نیز ایسا شخص قابلِ ملامت اور گناہ گاربھی نہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمدنعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشید، کراچی
27 محرم الحرام 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


