021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھانے پر ختم پڑھنا
..سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

کھانے پر ختم پڑھناکیا یہ بدعت ہے ؟ اس کی کیاصورت ہے اورکیسے کیاجائے رہنمائی فرمائیں ۔ کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

o

کھانے پر ختم پڑھنے کی جو مروجہ رسم ہے وہ بالکل بے اصل ہے (لیکن اگر ایسا کیا جائے تو یہ کھانا حرام نہیں ہوتا اس کا کھانا جائز ہے) نہ آنحضرت ﷺ سے کہیں ثابت ہے نہ صحابہ ؓوتابعین سے نہ ؒؒؒؒؒؒائمہ مجتہدؒین سے محض بدعت محدثہ ہے سمجھنے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اگر یہ کوئی ثواب کا کام ہوتا تو صحابہ کرام ؓ جوایسے کامو ں کے عاشق تھے کبھی نہ چھوڑتے اور ہزاروںواقعات ان کے اس بارے میں منقول ہوتے حالانکہ تمام کتب تاریخ و سیر میں اس کا ایک واقعہ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا کہ بطرز مروج کھانے پر فاتحہ کسی نے پڑھی ہو اس لئے بدعت وضلالت ہے ۔کمافی الحدیث الصحیح کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النارمشکوٰۃ۔ ۲۶/صفر۱۳۵۰ھ(امداد المفتین ج ۲؍ ) اگر کسی میت کےلیے ایصال ثواب کرنا ہے تو کھانا پکا کر کسی کو صدقہ کر دیا جائے، اور یہ دعا کر لی جائے کہ اللہ تعالی اس صدقے کا ثواب فلاں کو پہنچا دے، یہ جائز ہے اور اس نیت کرنے کے لئے نیاز فاتحہ کی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ جات

قراء ۃ الفاتحۃ والإخلاص والکافرون علی الطعام بدعۃ۔ (فتاویٰ سمرقندی بحوالہ: فتاویٰ رحیمیہ ۱؍۲۲۹، مجموعۃ الفتاویٰ ۱؍۸۱، احیاء العلوم ۱۴۸) قال العلامۃ اللکنوي رحمہ اللّٰہ تعالیٰ في الفاتحۃ المروجۃ: ’’این طور مخصوص نہ در زمانِ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بود، ونہ در زمانِ خلفاء، بلکہ وجودِ آں در قرونِ ثلاثہ کہ مشہود لہا بالخیر اند منقول نہ شدہ، وحالاً در حرمین شریفین - زادہما اللہ تعالیٰ شرفاً وکرامۃً - عاداتِ خواص نیست… واین را ضروری دانستن مذموم است الخ‘‘۔ (مجموعۃ الفتاویٰ ۱؍۱۹۵ لاہور، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۳؍۶۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم نظام الفتاوی جلد 1 حصہ دوم فاتحہ مروّجہ بدعت ہے اگر چھوڑنے میں فتنہ کا اندیشہ ہوتو حسن تدبیر سے اس کی اصلاح کرنی چاہیے . فتاوی ریاض العلوم جلد 1 غیر مسلم اقوام کے ساتھ تشبہ ، شریعت میں ممنوع ہے ، بالخصوص مذہبی امور میں تشبہ بہت ہی خطرناک ہے، حتی کہ بعض صورتوں میں کفر ہے، اور جس عمل کے متعلق سوال کیا گیا ہے یہ بھی کافروں کے ساتھ تشبہ کی قسم سے ہے، چنانچہ ہندوؤں کے مقتدیٰ، برہمن وغیرہ مخصوص کھانوں پر’’ وید ‘‘ وغیرہ پڑھتے ہیں۔دوسرے قابل غور امر یہ ہے کہ کیوں تمام کھانوں پر فاتحہ نہیں پڑھاجاتا؟ مخصوص ایام میں مخصوص کھانوں پر ہی فاتحہ کیوں پڑھاجاتاہے؟ شریعت میں ان تخصیصات کی کوئی دلیل نہیں،نیز کھانے ، شیرینی کے علاوہ اگر کپڑا،غلہ،پیسہ وغیرہ دے کر ایصال ثواب کرنا ہوتاہے ، تو کیوں ان چیزوں پر فاتحہ خوانی نہیں کی جاتی؟ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ رسم کی پابندی ہے، اور چوں کہ اس کو دین سمجھاجاتاہے ، اس لیے بدعت اور ناجائز ہے . وفی کفایۃ المفتی (1/ 219) کھاناسامنے رکھ کرفاتحہ دینے کی رسم بے اصل ہے کھان اللہ کے واسطے کسی مسکین کودیدیاجائے یہی کافی ہے۔ وارجع ایضا فتاوی رحیمیۃ3/194 کتاب کا نام: فتاوی رشیدیہ صفحہ نمبر: 73 فاتحہ مروجہ شرعاً درس نہیں ہے بلکہ بدعت سیۂ ہے کذا فی اربعین و فتاویٰ سمرقندی فقط کتاب کا نام: کتاب النوازل جلد 1- صفحہ نمبر: 361 فاتحہ کا مروجہ طریقہ جو اہل بدعت میں رائج ہے، قطعاً بدعت اور بے اصل ہے، اکابر اور سلف صالحین سے اس کا ثبوت نہیں اور برکت کی دعا پر اسے قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ (مستفاد: فتاویٰ رشیدیہ ۱۵۷، فتاویٰ محمودیہ ۱؍۲۲۹)
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔