021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
"عاریت” اور "ہبہ” میں اختلاف کی ایک صورت کا حکم۔
..امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

گزشتہ فتویٰ(54/54320) سے متعلق تین باتیں سمجھنا چاہتے ہیں: 1۔ گائے جو واپس کرنا ضروری ہے تو اس بارے میں وضاحت فرما دیجئے کہ گائے عقلمند نے زینب بی بی سے آج سے تقریباً 30 سال پہلے لی تھی، اور لے کر آگے بیچ دی تھی، اب واپسی کی کیا صورت ہو گی؟ کیا اس وقت جتنی قیمت پر بیچی تھی، اتنی قیمت واپس کر دے، جبکہ عقلمند کو یاد نہیں ہے کہ کتنے میں بیچی تھی،یا اس جتنی عمر کی گائے خرید کر واپس کر دے، یا اس جیسی گائے کی قیمت معلوم کرکے زینب بی بی کو رقم دے دی جائے، قیمتیں مختلف ہوتی ہیں۔ اس کا کیا حل ہے؟ 2۔ اوگئی اور چار انگوٹھیاں چاندی کے بنے ہوئے تھے، یہ بھی بیچ کر رقم استعمال میں لائی گئی، لیکن دونوں کا وزن کیا تھا یا نہیں ، یہ کسی کو یاد نہیں، فریقن نے اندازے سے 5 تولہ پر اتفاق کیا تھا کہ یہ واپس کریں گے، لیکن زینب بی بی کو بعد میں اس جیسی اوگئی کو دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ میری اوگئی بھی 5 تولہ نہیں ہو گی،بلکہ 18 یا 20 تولہ ہو گیاب پوچھنا یہ ہے کہ کیا سابقہ اتفاق سے رجوع درست ہے یا نہیں؟ اور اس وقت یہ کتنے میں بکے تھے، یہ بھی کسی کو یاد نہیں، تو کیا اوگئی اور چار انگوٹھیاں واپس کی جائیں، یا اس وقت کی قیمت کا اندازہ کر کے رقم واپس کی جائے؟یا موجودہ وقت میں بوقتِ واپسی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا؟ وضاحت سے جواب عنایت فرمائیں۔ 3۔ زینب بی بی کہہ رہی ہے کہ مذکورہ اشیاء میں نے ہبہ کی نیت سے نہیں دی تھیں، بلکہ واپس لینے کی نیت سے دی تھیں، اور عقلمند صاحب کا کہنا ہے کہ شریعت جو کہتی ہے مجھے وہ منظور ہے۔(تنقیح: مستفتی نے فون پر بتایا کہ طلاق کے بعد زینب بی بی اور ان کا گھرانہ مشترکہ طور پر رہتے تھے، گھر کا خرچ کرنے میں ایسا ہوتا تھا کہ کبھی ہم نے بھی کوئی چیز بیچ دی، اسی طرح ضرورت پڑی تو زینب بی بی سے اشیاء لے کر بیچ دی اور گھر کے مشترکہ خرچ میں رقم استعمال کی، مشترکہ گھر کا سربراہ عقلمند ہی تھا اس لئے انتظام و انصرام وہی کرتا تھا، زینب بی بی کے دعویٰ"واپس لینے کی نیت سے اشیاء دی تھیں" کے جواب میں عقلمند کا کہنا ہے کہ یہ اشیاء واپس لینی کی نیت سے نہیں بلکہ مشترکہ خرچ چلانے کی نیت سے دی گئی تھیں۔)

o

عدالتی قانون کی رو سے عاریت کا دعویٰ 15 سال کی مدت کے بعد قابلِ سماعت نہیں رہتا، اس لئے اگر فریقین یہ معاملہ کسی شرعی عدالت میں لے کر جائیں تو قاضی اسے خارج کر دے گا، البتہ اگردعویٰ حقیقت پر مبنی ہوتودیانۃً (یعنی لوگوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کے اعتبار سے) یہ دعویٰ معتبر ہوتا ہے، لہذا اس جواب میں اسی (دیانۃً) اعتبار سے حکم درج کیا گیا ہے۔ فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(المادۃ: 1660): "لا تسمع الدعاوى غير العائدة لأصل الوقف أو للعموم كالدين ولو كان دية الوديعة والعارية والعقار الملك والملك الذي لم يكن عقارا كالحيوان والأمتعة الأخرى والميراث والقصاص والمقاطعة في العقارات الموقوفة ودعوى التصرف بالمقاطعة ودعوى التصرف بالإجارتين والتولية المشروطة والغلة بعد أن تركت خمس عشرة سنة." موجودہ سوال میں چونکہ زینب بی بی کی طرف سے یہ وضاحت بھی شامل کی گئی ہے کہ اس نے یہ اشیاء واپس لینے کی نیت سے دی تھیں، جبکہ عقلمند کا کہنا ہے کہ یہ عاریت یا قرض نہیں بلکہ ہبہ کی گئی تھیں تاکہ مشترکہ گھر کا خرچ چلایا جا سکے، تواختلاف کی ایسی صورت میں جہاں مملّک (یعنی اشیاء دینے والے) اور قابض (یعنی اشیاء لینے والے) میں اختلاف ہو جائے کہ اشیاء کس طور (یعنی ہبہ، امانت یا عاریت وغیرہ) پر دی گئی تھیں، تو ایسی صورت میں پہلے اشیاء لینے والے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ پرگواہی پیش کرے، اگر وہ شرعاً معتبر گواہی پیش نہ کر سکے اور وہ دوسرے شخص سے قسم کا مطالبہ کرے تو اشیاء دینے والے کی بات اس کی قسم کے ساتھ معتبر ہوتی ہے۔ وفی المحيط البرهاني (ج 6 / ص 545، المکتبۃ الشاملۃ): "قال محمد رحمه في «الجامع»: رجل اشترى من رجل عبداً بألف درهم وقبضه ووهب البائع عبداً آخر للمشتري وسلمه إليه فمات أحد العبدين فجاء المشتري يرد الباقي بالعبد فقال البائع: لم أبعك هذا العبد الذي فات وهذا العبد وهبته منك وقال المشتري: لا بل هذا الحي هو الذي اشتريته منك بألف درهم ولا بينة لواحد منهما كان القول قول البائع مع يمينه؛ لأن المشتري يدعي فسخ البيع في العبد الحي والبائع ينكر، ولأن المملك هو البائع فيكون القول قوله في بيان سبب الملك أني ملكت هذا العبد بالهبة ولو لم يجد المشتري بالعبد عيناً ولكن أراد البائع الرجوع في الهبة وقال: إن الحي هو الذي وهبته وأنكر المشتري فالقول قول البائع لما قلنا من المعنى الثاني، وإذا رجع فيه كان للمشتري أن يرجع على البائع بالثمن الذي نقده لأنا إنما جعلنا القول قول البائع في كيفية تمليك العبد باعتبار أن تمليك العبد استفيد من جهته وتمليك الثمن وجد من جهة المشتري فوجب أن يقبل قوله كيفية تمليك الثمن أيضاً۔" لہذا صورتِ مسئولہ میں پہلے عقلمند سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے دعویٰ پر کوئی شرعاً معتبر گواہی پیش کرے، اگر وہ نہ کر سکااور اس نے زینب بی بی سے قسم کا مطالبہ کیا، تو زینب بی بی سے کہا جائے گا کہ وہ اس بات پرقسم اٹھائے کہ اس نے یہ چیزیں ہبہ کی نیت سے گھر کا مشترکہ خرچ چلانے کے لئے نہیں بلکہ واپس لینےکی نیت سے دی تھیں۔اگر عقلمند نے گواہی پیش کر دی یا زینب بی بی نے قسم سے انکار کر دیا تو عقلمند کا اس بارے میں دعویٰ معتبر ہو گاکہ یہ چیزیں زینب بی بی نے ہبہ کی نیت سے گھر کا خرچ چلانے کے لئے دی تھیں، لہذا اس صورت میں اب عقلمند کے ذمے(سوائے آدھا تولہ بالی کے، کیونکہ اس کی واپسی کی بات طے ہوئی تھی)کسی چیز کی قیمت یا مثل کا واپس کرنا لازم نہیں ہوگا،لیکن اگرگواہی پیش نہ کرنے کی صورت میں عقلمند نے قسم کا مطالبہ ہی نہیں کیا، یا مطالبہ کیا اورزینب بی بی نے قسم اٹھا لی، تو اس صورت میں زینب بی بی کا دعویٰ معتبر ہو گاکہ یہ چیزیں اس نے واپس لینے کی نیت سے دی تھیں، لہذا اب عقلمند پر ان چیزوں کا ضمان آئے گا، جس کی تفصیل آگے آئےگی۔ سوال میں مذکور تمام اشیاء (گائے، اوگئی، انگوٹھیاں، بالی اور کھوکھہ) ایسی ہیں کہ ان کی ذات کو باقی رکھتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اور ایسی چیزوں(یعنی جن کی ذات کو باقی رکھتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہو) کو جب واپس لینے کی نیت سے دیا جائے تو یہ شرعاً "عقدِ عاریت" کہلاتا ہےخواہ وہ ذوات الامثال(یعنی وہ اشیاء جن کی ہم مثل بازار میں قیمت کے فرق کے بغیر دستیاب ہو) ہوں یا ذوات القیم (یعنی وہ اشیاء جن کی ہم مثل بازار میں" دستیاب ہی نہ ہو" یا "قیمت کے غیر معمولی فرق کے ساتھ دستیاب ہو")۔ وفی الجوهرة النيرة (ج 3 / ص 260، المکتبۃ الشاملۃ): "ولو قال منحتك هذه الجارية كانت عارية قال في الكرخي إذا منحه بعيرا أو شاة أو ثوبا أو دارا فهي عارية ، وإن منحه طعاما أو لبنا أو دراهم ففيه روايتان إحداهما هبة والأخرى قرض والأصل فيه أن كل ما ينتفع به للسكنى أو للبس أو للركوب فهو عارية وكل ما لا ينتفع إلا بأكله أو استهلاكه ففيه روايتان ۔" و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 20 / ص 78، المکتبۃ الشاملۃ): "قوله وعارية الثمنين والمكيل والموزون والمعدود قرض ) ومراده أن إعارة ما لا يمكن الانتفاع به مع بقاء العين قرض ولو كان قيميا ۔۔۔ الی ۔۔۔ قيدنا بكونه لا يمكن الانتفاع به مع بقاء عينه لأنه لو أمكن بأن استعار درهما ليعاير به ميزانه كان عارية فليس له الانتفاع بعينه كعارية الحلي ۔" اوپر بیان کی گئی صورت میں اگریہ ثابت ہوجائے کہ یہ چیزیں عقلمند کے پاس عاریت تھیں،توعاریت کا حکم یہ ہے کہ عاریت پر مستعیر(جس نے شیء عاریت پر لی ہو)کی ملکیت نہیں آتی، وہ صرف اسے استعمال کر سکتا ہے، اسے بیچ نہیں سکتا،اور اگر بیچ دے تو غاصب شمار ہوتا ہے،اور غاصب پر اس شیء کا ضمان ادا کرنا شرعاً لازم ہے، ضمان کی ادائیگی کی صورت یہ ہو گی کہ اگر وہ شیءذوات الامثال میں سے ہو تو اس جیسی چیز بازار سے خرید کر مالک کو دینا غاصب پر شرعاً واجب ہے، اور اگر وہ شیء ذوات القیم میں سے ہو تو غاصب کے ذمے یوم الغصب (جس دن بیچی تھی) کی قیمت واجب ہوتی ہے۔ مذکورہ اشیاء عقلمند کے پاس عاریت ثابت ہونے کی صورت میں ان اصولوں کی بنیاد پر آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں: 1۔ گائے بہرحال ذوات القیم میں سے ہے، لہذاجس دن گائے بیچی تھی، اس دن کی اس کی بازاری قیمت عقلمند کے ذمے واجب ہے،مدار اس پر نہیں کہ کتنے کی بیچی تھی، بلکہ بازاری قیمت اصل مدار ہے، غور و فکر کر کے، دوسرے لوگوں سے پوچھ کر یا باہمی اتفاق سے جو قیمت طے ہو وہ عقلمند کے ذمے واجب ہے۔ 2۔ اسی طرح اوگئی ، بالی، کھوکھہ ور انگوٹھیوں میں سے جو ذوات الامثال ہوں، یعنی اسی ڈیزائن اور بناوٹ کی بازار میں اب بھی دستیاب ہوں تو عقلمند کے ذمے واجب ہے کہ وہ خرید کر زینب بی بی کو دے، اور اگر ان (تمام یا بعض اشیاء) کی جیسی اشیاء بازار میں دستیاب نہ ہوں (یعنی یہ ذوات القیم ہوں ) توجس دن عقلمند نے بیچی تھیں، اس دن کی اس کی بازاری قیمت عقلمند کے ذمے واجب ہے،یہاں بھی مدار اس پر نہیں کہ کتنے کی بیچی تھی، بلکہ بازاری قیمت اصل مدار ہے، غور و فکر کر کے، دوسرے لوگوں سے پوچھ کر یا باہمی اتفاق سے جو قیمت طے ہو وہ عقلمند کے ذمے واجب ہے۔ زینب بی بی کو اگر اب خیال آرہا ہے کہ وہ زیادہ وزن کی تھیں، تو اس دعویٰ کو اگر عقلمند تسلیم کر لیتا ہے تو ٹھیک، لیکن اگر وہ انکار کرتا ہے تو زیورات کے وزن کے بارے میں پہلے زینب بی بی سے کہا جائے گا کہ وہ کوئی گواہی پیش کرے، اگر وہ نہ کر سکی تو عقلمند سے کہا جائے گا کہ وہ جتنے وزن کا دعوی کر رہا ہے اس پر قسم اٹھائے۔اگر زینب بی بی نے گواہی پیش کر دی یا عقلمند نے قسم سے انکار کر دیا تو زینب بی بی کا زیوارات کے وزن کے بارے میں دعویٰ معتبر ہو گا، لیکن اگر زینب بی بی کے گواہی پیش نہ کرنے کی صورت میں عقلمند نے قسم اٹھا لی تو اس کا دعویٰ معتبر ہو گا۔

حوالہ جات

وفی رد المحتار (ج 25 / ص 274، المکتبۃ الشاملۃ): "ولو ادعى الغاصب الهلاك عند صاحبه بعد الرد وعكسه المالك ) أي ادعى الهلاك عند الغاصب ( وأقاما البرهان فبرهان الغاصب ) أنه رده وهلك عند المالك ( أولى ) خلافا للثاني ملتقى ، ولو اختلفا في القيمة وبرهنا فالبينة للمالك وسيجيء ولو في نفس المغصوب فالقول للغاصب ۔۔۔۔ و قال ابن عابدینؒ ۔۔ ( قوله ولو في نفس المغصوب ) بأن قال الغاصب لثوب هذا هو الذي غصبته وقال المالك بل هو هذا ( قوله فالقول للغاصب ) ؛ لأن القول للقابض في تعيين ما قبض أمينا كان أو ضمينا۔"فقط
..

n

مجیب

عمران مجید صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔