021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کا حکم
61143/57جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

1. تصویر جو موبائل یا کیمرے کے ذریعے سے کھینچی جاتی ہے، یہ صحیح ہے یا نہیں؟ 2. یادگار کے طور پر مردہ آدمی کی یا زندہ کی تصویر گھر میں لٹکانا درست ہے یا نہیں؟ 3. شادی بیاہ یا کسی اور موقع پر بنائے جانے والی ویڈیوز کا کیا حکم ہے؟

o

1. بغیر ضرورتِ واقعیہ کے کسی بھی جاندار کی کاغذ پر تصویر کھینچنا اور اپنے پاس رکھنا بالاتفاق ناجائز ہے،اور ڈیجیٹل(موبائل وغیرہ)کی تصویر میں اگرچہ علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں،لیکن بلا ضرورت کسی جاندار کی ڈیجیٹل تصویر کھینچنا بھی مناسب نہیں۔ 2. جائز نہیں،حدیث شریف میں ہے کہ ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ 3. ایسی ویڈیوز متعدد خرابیوں کا باعث ہیں،مثلاً عورتوں کی تصویریں کھنچنا جو ایک بے حیائی کا کام ہے،اسی طرح ان ویڈیوز کے ذریعے شادی وغیرہ کی رسموں کی ترویج بھی ہوتی ہے جو کہ مستقل گناہ ہے اور مال کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ریا اور نمودونمائش کا بھی سبب ہیں۔ان تمام خرابیوں کی وجہ سے ایسی ویڈیو بنانا بالکل جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

عن ابن عباس عن أبي طلحة رضي الله عنهم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير . (صحيح البخاري:حدیث رقم:5949) عن مسلم قال :”كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير ،فرأى في صفته تماثيل، فقال :سمعت عبد الله قال :سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:” إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون“.(صحیح البخاری:حدیث رقم:5950) وفی فتح الباری: قال النووي:” قال العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم ،وهو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد، وسواء صنعه لما يمتهن أم لغيره ،فصنعه حرام بكل حال ،وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو فلس أو إناء أو حائط أو غيرها .فأما تصوير ما ليس فيه صورة حيوان فليس بحرام “.(فتح الباري لابن حجر :10/ 384) وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح. وقال الشامی رحمہ اللہ:” وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا ؛لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى.“(الدرالمختار مع رد المختار:2/502،503،دارالمعرفۃ،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔