| 61351 | نماز کا بیان | مسافر کی نماز کابیان |
سوال
بنوں اورکوہاٹ کے درمیان ماضی میں 85کلومیٹرکا فاصلہ تھا ،لیکن اب بنوں 10کلومیٹر کوہاٹ کی جانب وسیع ہوگیاہے ،اسی طرح کوہاٹ بھی بنوں کی کی جانب 8 کلومیٹر وسیع ہونے سے درمیانی فاصلہ اب 67کلومیٹر رہ گیاہے ،اب پوچھنایہ ہے کہ اب بنوں سے کوہاٹ اورکوہاٹ سے بنوں جانے والامسافر ہوگا یانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے بطورتمہید یہ سمجھ لیں کہ اس پرتو سب علماءکا اتفاق ہے کہ مسافرپر سفر کے احکام اس وقت لگتے ہیں جب وہ شہر یا گاؤں کی حدود سے باہر نکل جائے ، جب تک وہ ان کے حدود میں رہے اس وقت تک اس کے لیے قصر کرنا جائز نہیں ،لیکن مسافتِ شرعی (77.24)کا اعتبارکہاں سے شروع ہوگا ؟آیا گھر سے نکلنے کے بعد سےیاشہر کی حدود سے نکلنے کے بعدسے اگلے شہر یاگاؤں کی حدود تک؟ یعنی مسافرجہاں سے چلا ہے اورجہاں جانےکااردہ ہے عین ان دوجگہوں کے درمیان اڑتالیس میل (77,24 کلو میٹر) کے فاصلے کا اعتبارہے یا ایک شہر کی حدود سے دوسرے شہر کی حدود تک کی مسافت کااعتبارہے؟اس بارےمیں علماءِ عصرکااختلاف ہے ،اگرچہ ایک رائے یہ ہے کہ گھر سے مقام ِمقصود تک کی درمیانی مسافت کا اعتبارہوہےخواہ دونوں شہروں کا درمیانی فاصلہ 77.24 کلو میٹرہو یا نہ ہو ،کیونکہ مسافت سفر میں اس مقام اور جگہ کا اعتبار ہوتاہے جہاں سے سفر شروع کیا جا رہا ہے اور جہاں تک اسے جانا ہے ،لہٰذا اگر دونوں جگہوں کا درمیانی فاصلہ مسافت ِسفر کے بقدر ہے تو شہر کی حدود سے باہر نکلنے کے بعد احکام سفر جاری ہوں گےاگرچہ دونوں شہروں کی حدود کے درمیان 77.24سے کم فاصلہ ہو،لیکن اس رائے کی تائید فقہاء کرامؒ کی عبارات سے نہیں ہوتی، لہذا ہماری نظرمیں راجح اورصحیح یہ معلوم ہوتاہے کہ مسافتِ سفر کو شہر کی آبادی کے کنارے سےدوسرے شہر یاگاؤں کےآبادی کےشروع والے کنارہ تک ناپی جائے ۔اگریہ فاصلہ بقدرسفرشرعی (77,24 کلو میٹر)بنتاہوتو یہ شرعی سفر ہوگا اورسفر کنندہ پر احکامِ سفر جاری ہونگے ورنہ نہیں ۔ اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اب بنوںں کے حدود اورکوہاٹ کے حدود کے درمیانی مسافت مسافتِ شرعی (77.24)نہیں رہی، لہذا اب بنوں سے کوہاٹ اورکوہاٹ سے بنوںں جانے والاشرعی مسافرشمار نہیں ہوگا،اوراحتیاط بھی اسی رائے میں ہے۔
حوالہ جات
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


