021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹھیکہ لینے کے لیے رشوت دینا
..جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

السلام علیکم،۔۔۔ گزارش یہ ہے کہ میں ایک کنسٹرکشن فرم میں بطورِ سی ای او ملازمت کررہا ہوں۔ آج کل یہ ایک معمول کی بات بن گئی ہے کہ کمپنیوں کو ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے مجاز افسران کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ ہماری کمپنی بھی بعض اوقات ٹھیکہ لینے کے لیے رشوت دیتی ہے، رشوت دینے یا لینے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ رشوت دے کر ٹھیکہ مل جانے کے بعد اس پراجیکٹ کو مکمل کروانا میری ذمہ داری ہے تو:کیا کمپنی کے لیے رشوت دے کر ٹھیکہ لینا جائز ہے؟

o

ٹھیکہ لینے کے لیے رشوت دینا جائز نہیں، اس سے بچنا ضروری ہے۔ کمپنی کو چاہیے کہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی ٹھیکہ حاصل کرے ۔حدیث شریف میں رشوت دینے والے، لینے والے اور ان دونوں کے درمیان واسطہ بننے والے پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ البتہ اگر کہیں صورتِ حال ایسی ہو کہ کوئی کمپنی قانونی طور پر ٹھیکہ لینے کی حق دار اور اہل ہو، اور کوئی دوسرا شخص یا کمپنی اس سے زیادہ حق دار نہ ہو، نہ ہی مساوی درجے کے لوگوں یا کمپنیوں میں اپنے آپ کو آگے کرنا مقصد ہو، بلکہ واحد حق دار ہی یہ کمپنی ہو (یعنی ٹھیکہ لینے کے لیے قانوناً جو اصول، شرائط اور معیار طے ہوں ان میں یہ کمپنی سب سے فائق ہو) اور رشوت دئیے بغیر قانونی طریقۂ کار کے مطابق ٹھیکہ حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں رشوت دے کر ٹھیکہ حاصل کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ لیکن لینے والوں کے لیے بہر صورت رشوت لینا سخت ناجائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات

المستدرك علی الصحیحین للإمام الحاکم النیسابوری: (4/ 103): عن ثوبان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لعن اللہ الراشيَ والمرتشيَ والرائشَ، الذي يمشي بينهما. إعلاءالسنن(14/6635): والحاصل:أن حد الرشوة هوما يؤخذ عماوجب علي الشخص سواءكان واجباًعلی العين أوعلی الكفاية وسواء كان واجباً حقاً للشرع كما في القاضي وأمثاله...أو كان واجباً عقداً كمن آجر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيما لهم،أو عليهم كأعوان القاضى، وأهل الديوان وأمثالهم. حاشية ابن عابدين (5/ 72): لو اضطر إلى دفع الرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔