021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عصر کی نماز مثلِ ثانی میں پڑھنا
..نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس ادارے میں میں کام کرتاہوں اس کا ہیڈ آفس لاہور میں ہے مگرپلانٹ قصورمیں ہے جوکہ لاہوسے 51کلومیٹرکے فاصلے پر ہے، ہم لوگ اپنی سوریاں ہیڈ آفس میں کھڑی کرتے ہیں جہاں سے ہمیں فیکٹری کی گاڑی قصورلےکرجاتی ہے ،ہماری واپسی 5بے ہوتی ہے یعنی 5 بجے گاڑی قصور سے روانہ ہوتی ہے اورتقریباً6:51 پر لاہور پہنچتی ہے،گرمیوں میں عصر کی نمازپڑھ کر قصورسے چلتے تھے مگر20مئی کے بعد جب عصرکا وقت 4:55 ہوجاتاہے تو ہم قصورپلانٹ پر عصر کی نماز نہیں پڑھ سکتے،کیونکہ گاڑی نے 5بجے نکلنا ہوتاہے ، اس صورت میں ہم 20مئی سے 5 اگست تک نمازِعصرلاہورآکر پڑھتے ہیں ، لاہورآکر بھی اکثرلوگ چونکہ نماز نہیں پڑھتے، اس لیے بعض مرتبہ اکیلے ہی لاہورپلانٹ پر نماز پڑھنا پڑھتی ہے ورنہ ہم جماعت کروالیتے ہیں ،اب اس بارے میں ہم لوگوں میں کافی اختلافِ رائے ہے ،بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جب اہل حدیث حضرات 4بجے کے قریب عصر کی نماز ادا کرلیتے ہیں تو ہمیں بھی عصر کی نماز قصور پلانٹ پر 4بجےہی ادا کرلینی چاہیے، جبکہ بندہ اس کے خلاف ہے کہ جب حنفی وقت کے مطابق عصر کا وقت شروع ہو تو پھرنماز پڑھنی چاہیے ،مگر جہالت کا دورہے نقار خانے میں طوطی کی آوازکو ن سنتاہے ،مندرجہ بالاحالات کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں کہ ہم جو چند لوگ نمازی ہیں انہیں نمازِ عصر کے حوالے سے کیاکرنا چاہئے ،راستے میں گاڑی روک کر نماز نہیں پڑھ سکتے ،کیا ہم بھی مثلِ اول میں نماز ادا کرسکتے ہیں ؟

o

20مئی تا5اگست لاہورکا نقشہ چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ اس دوران آپ حضرات کو عصر کی نماز لاہورآکر وقت میں باآسانی مل سکتی ہے، اورمثلِ اول میں عصرکی نماز پڑھنا چونکہ ائمہ کرام میں مختلف فیہ ہے، اس لئے اگر یہ خطرہ نہ ہوکہ لاہورآکر کچھ ساتھی تھکن ،گھرجانے کی جلدی یا کسی اوروجہ سے نماز ہی نہیں پڑھیں گے یا کم از کم جماعت کے ساتھ نہیں پڑھیں گے توبہتر یہ ہے کہ ائمہ کے اختلاف سےبچاجائے اورلاہورآکرباجماعت عصر کی نمازمثل ثانی کے بعد ادا کی جائے، تاہم اگر یہ خطرہ ہو کہ لاہورپہنچ کر کچھ ساتھی تھن، گھرجانے کی جلدی یا کسی اور وجہ سے نماز ہی نہیں پڑھیں گے یا کم از کم جماعت چھوڑدیں گےتو پھر قصورمیں مثلِ اول میں جماعت کے ساتھ آپ حضرات نماز پڑھ سکتے ہیں، اس لیے کہ حنفیہؒ میں سے صاحبینؒ کے مذہب پرمثلِ ثانی میں عصر کی نماز درست ہے، بہت سے مشائخِ احناف سے اس رائے کی ترجیح بھی منقول ہے؛ لہٰذامذکورہ بالاخطرات اور جماعت کی اہمیت اورفضیلت کے حصول کے لئے صاحبینؒ کے مذہب کو اختیار کیا جاسکتا ہے، اکثر احناف کا ایسے موقعوں (جیسے حرمین میں) اسی پر عمل ہے، لہذا آپ حضرات بھی اس پر عمل کرسکتے ہیں، تاہم یہ یاد رہے کہ قصورمیں جس امام کی اقتداء میں آپ حضرات عصر کی نماز باجماعت ادا کریں گے اگر وہ غیرمقلد ہو تو اس کی اقتداء میں نماز تب جائز ہوگی جب وہ ائمہ سلف کو بُرا بھلا نہ کہتا ہو اور اختلافی مسائل میں مقتدیوں کے مذہب کی رعایت رکھتا ہوجیسے کہ خون نکلنے سے وضوء کرنا،جورابوں پر مسح نہ کرنا وغیرہ وغیرہ ۔

حوالہ جات

وفی سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب في المواقیت ۱؍۵۶ رقم: ۳۹۳ دار الفکر) عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: دقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أمّني جبریل علیہ السلام عند البیت مرتین…: وصلی بي العصر حین کان ظلہ مثلَہ… فلما کان الغد … صلی بي العصر حین کان ظلہ مثلیہ. وفی البحر الرائق۱؍۲۴۵) وقت العصر من بلوغ الظل مثلیہ، والثانیۃ روایۃ الحسن إذا صار ظل کل شيء مثلہ سوی الفيء وہو قولہما. وفی الدر المختار حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 359) ووقت الظہر من زوالہ … إلی بلوغ الظل مثلیہ، وعنہ مثلہ، وہو قولہما وزفر والأئمۃ الثلاثۃ۔ قال الإمام الطحاوي: وبہٖ نأخذ وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى . الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 563) مطلب في الاقتداء بشافعي ونحوه هل يكره أم لا؟وظاهر كلام شرح المنية أيضا حيث قال: وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع، إنما اختلف في الكراهة. اهـ فقيد بالمفسد دون غيره كما ترى. وفي رسالة [الاهتداء في الاقتداء] لمنلا علي القارئ: ذهب عامة مشايخنا إلى الجواز إذا كان يحتاط في موضع الخلاف وإلا فلا.والمعنى أنه يجوز في المراعي بلا كراهة وفي غيره معها. ثم المواضع المهملة للمراعاة أن يتوضأ من الفصد والحجامة والقيء والرعاف ونحو ذلك، لا فيما هو سنة عنده مكروه عندنا؛ كرفع اليدين في الانتقالات، وجهر البسملة وإخفائها، فهذا وأمثاله لا يمكن فيه الخروج عن عهدة الخلاف، فكلهم يتبع مذهبه ولا يمنع مشربه اهـ. وفي حاشية الأشباه للخير الرملي: الذي يميل إليه خاطري القول بعدم الكراهة، إذا لم يتحقق منه مفسد. اه الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 483) (أو يظهر سب السلف) لظهور فسقه، بخلاف من يخفيه لأنه فاسق مستور عيني، قال المصنف: وإنما قيدنا بالسلف تبعا لكلامهم؛ وإلا فالأولى أن يقال سب مسلم لسقوط العدالة بسب المسلم وإن لم يكن من السلف كما في السراج والنهاية. وفی الدر المختار (1/ 559) (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) ....(وفاسق وأعمى) ونحوه الأعشى نهر (إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى . وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 560) وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا قال: ولذا لم تجز الصلاة خلفه أصلا عند مالك ورواية عن أحمد، فلذا حاول الشارح في عبارة المصنف وحمل الاستثناء على غير الفاسق.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔