| 62252 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
بعض اوقات ایک دکاندار کے پاس مطلوبہ ڈیزائن نہیں ہوتا، وہ دوسرے دکاندار سے ناخالص سونے سے تیار شدہ زیور ادھار لیتا ہے اور گاہک کو فروخت کر دیتا ہے، پھراس کے عوض کم مقدار میں خالص سونا دوسرے دکاندارکو دیتا ہے، ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر گاہک کو وہ زیور پسند نہ آئے تو وہ دوسرے دکاندار کو واپس کر دیا جاتا ہے۔ اس صورت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں پہلے دکاندار کا دوسرے دکاندار سے زیور ادھار لے کر گاہک کو فروخت کرنا اور پھر اس کے عوض اس کو زیادہ مالیت کا خالص سونا قرض اور خریدوفروخت کسی بھی معاملے پر درست نہیں، قرض کی بنیاد پر اس لیے کہ یہ قرض پر نفع لینے کی وجہ سے سود میں داخل ہے اور خریدوفروخت کی صورت پر اس لیے جائز نہیں کہ اس میں دونوں طرف سے اسی مجلس میں سونے پر قبضہ ہونا ضروری ہے، جو کہ مذکورہ صورت میں نہیں پایا جاتا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ پہلا دکاندار دوسرے دکاندار سے خیار شرط (اس شرط کے ساتھ کہ اگر گاہک کو یہ زیور پسند نہ آیا تو واپس کر دیا جائے گا) کے ساتھ کرنسی کے عوض زیور خرید لے (اس کی قیمت میں دوسرا دکاندار اپنا نفع بھی شامل کر سکتا ہے)۔ اس کے بعد اگر گاہک کو وہ ڈیزائن پسند آجائے تو پہلا دکاندار اپنے گاہک کو زیور فروخت کر دے اور دوسرے دکاندار کو طے شدہ قیمت ادا کردے۔ اگر اس کو وہ ڈیزائن پسند نہ آئے تو وہ زیوردوسرے دکاندار کو واپس کر سکتا ہے۔
حوالہ جات
شرح معاني الآثار (4/ 60، رقم الحديث: 5735):
حدثنا حسين قال: سمعت يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان الثوري , عن سلمة , فذكر بإسناده مثله , إلا أنه لم يقل " اشتروا له " وقال " اطلبوا " . قال أبو جعفر: فذهب قوم إلى إجازة استقراض الحيوان , واحتجوا في ذلك بهذه الآثار. وخالفهم في ذلك آخرون , فقالوا: لا يجوز استقراض الحيوان . وقالوا: يحتمل أن يكون هذا , كان قبل تحريم الربا , ثم حرم الربا بعد ذلك , وحرم كل قرض جر منفعة , وردت الأشياء المستقرضة إلى أمثالها , فلم يجز القرض إلا فيما له مثل۔
الفتاوى الهندية (3/ 202)دارالفکر، بیروت:
قال محمد رحمه الله تعالى في كتاب الصرف إن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك۔
الفتاوى الهندية (3/ 224) دارالفکر، بیروت:
وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط۔
حاشية ابن عابدين (5/ 180) ايچ ايم سعيد:
تنبيه سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة فأجاب بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
7/ جمادی الاخری 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


