021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طواف کی ابتداء حجر اسود سےنہ کرنا
..حج کے احکام ومسائلحج وعمرہ کے فرائض،واجبات کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے عمرہ کے طواف کی ابتداء حجر اسود سے نہیں کی اور طواف پورا کرکے عمرہ کے باقی اعمال بھی پوری کرلیے۔بعد میں کسی نے بتایا کہ طواف کی ابتداء حجر اسود سے ہوتی ہیں۔اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ عمرہ درست ہوا یا نہیں اور یہ جو غلطی کی ہے اس کا کیا حکم ہے؟

o

طواف کی ابتداء حجر اسود سے کرنا طواف کے واجبات میں سےہے،لہذا اگر کسی نے طواف کی ابتداء حجر اسود سے نہیں کی ، اگر ابھی تک مکہ مکرمہ میں مقیم ہے تو دوبارہ طواف کرنا واجب ہے اور اگر گھر لوٹ آیا ہے تو دم (بکرا یا دنبہ حدود حرم میں ذبح کرنا) واجب ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:" (وأخذ) الطائف (عن يمينه مما يلي الباب) ...ولو عكس أعاد مادام بمكة .فلو رجع فعليه دم .وكذا لو ابتدأ من غير الحجر كما مر." وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:" قوله :(وكذا لو ابتدأ من غير الحجر) أي يعيده ،وإلا فعليه دم. وهذا على القول بوجوبه ،كما أشار إليه بقوله كما مر، أي في الواجبات." (الدر المختار مع رد المحتار:2/495،دار الفکر،بیروت) وفی غنیۃ الناسک:ولو ابتدأ من غیر الحجر أعادہ مادام بمکۃ،فلو رجع فعلیہ دم." (ص:112،إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ) وفی إرشاد الساری:ویختص أی جواز ذبحہ بالمکان ھو الحرم،فلا یجوز ذبحہ فی غیرہ أصلاَ" (ص:369،الإمدادیۃ،مکّۃ المکرمّۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔